کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 288
رحمت ہے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘] تفسیر آیات: i: شیخ سعدی کا بیان: مَنْ وَفَّقَہُ اللّٰہُ لِلصَّبْرِ عِنْدَ وُجُوْدِ ھٰذِہِ الْمَصَائِبِ فَقَدْ امْتَثَلَ أَمْرَ اللّٰہِ، وَفَازَ بِالثَّوَابِ، فَلِہٰذَا قَالَ تَعَالٰی: {وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo}: أَيْ بَشِّرْھُمْ بِأَنَّہُمْ یُوَفَّوْنَ أَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ، فَالصَّابِرُوْنَ ھُمُ الَّذِیْنَ فَازُوْا بِالْبَشَارَۃِ الْعَظِیْمَۃِ وَالْمِنْحَۃِ الْجَسِیْمَۃِ۔[1] جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان مصیبتوں[2] پر صبر کی توفیق عطا فرمائی، تو اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعلیم کی اور ثواب کو حاصل کر کے کامیاب ہو گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: [ترجمہ: اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے]۔ یعنی انہیں بشارت دے دیجیے، کہ یقینا انہیں بلاحساب پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ پس صبر کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں، جو اس بہت بڑی شان و عظمت والی بشارت، اور بہت بڑے انعام سے نوازیں جائیں گے۔‘‘] ii: شیخ قاسمی کا قول: ’’{أُولٰئِکَ}: إِشَارَۃٌ إِلَی الصَّابِرِیْنَ بِاِعْتِبَارِ اتِّصَافِہِمْ بِمَا ذُکِرَ مِنَ النَّعُوْتِ {عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ} قَالَ الرَّاغِبُ: ’’اَلصَّلَاۃُ، وَإِنْ کَانَتْ فِيْ الْأَصْلِ الدُّعَآئُ، فَہِيَ مِنَ اللّٰہِ الْبَرَکَۃُ عَلٰی وَجْہٍ، وَالْمَغْفِرَۃُ [1] ملاحظہ ہو: تفسیر السعدي ص ۷۳۔ [2] سابقہ آیت میں ذکر کردہ: خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں میں کمی۔