کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 253
الْأُمُوْرِ، وَمَا یَرْجِعُ إِلٰی عَمَارَۃِ الدِّیْنِ، وَنُصْرَۃِ الْحَقِّ، وَعُلُوِّ الْکَلِمَۃِ، وَالْفَوْزِ فِيْ الدَّارَیْنِ۔ وَشَتَّانَ مَا بَیْنَ الْمُرَادَیْنِ، وَلِذٰلِکَ اِخْتَارَ لَکُمُ الطَّائِفَۃِ ذَاتَ الشَّوْکَۃِ، وَکَسَرَ قُوَّتَہُمْ بِضَعْفِکُمْ، وَغَلَبَ کَثْرَتََُہْم بِقِلَّتِکُمْ، وَأَعَزَّکُمْ وَأَذَلَّہُمْ، وَحَصَلَ لَکُمْ مَا لَا تُعَارِضُ أَدْنَاہُ الْعِیْرُ وَمَا فِیْہَا۔‘‘[1] ’’تم فوری فائدہ اور معمولی باتوں کو پسند کرتے ہو اور یہ، کہ تمہارے بدنوں اور مالوں میں کوئی گزند نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ بلند و بالا باتوں کا ارادہ فرماتے ہیں اور جن کے نتیجے میں دین کا دَور دورہ، نصرتِ حق، کلمہ (اسلام) کی رفعت اور دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ دونوں مرادوں میں بہت زیادہ دُوری ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلّح گروہ کو (تمہارے مقابلے کے) منتخب فرمایا، اُن کی قوت کو تمہاری کمزوری سے توڑا، اُن کی کثرت کو تمہاری قلّت سے مغلوب کیا، تمہیں عزت سے نوازا اور انہیں ذلیل کیا اور تمہارے لیے وہ کچھ حاصل ہوا، کہ تجارتی قافلہ اور جو کچھ اس میں تھا، وہ اس کی سب سے کم درجے والی بات کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘‘ ۲: حافظ ابن کثیر نے قلم بند کیا ہے: {وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ}: أَيْ: ھُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَّجْمَعَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الطَّائِفَۃِ الَّتِيْ لَہَا الشَّوْکَۃُ وَالْقِتَالُ لِیَظْفَرَکُمْ بِہِمْ وَیَنْصُرَکُمْ عَلَیْہِمْ، وَیُظْہَرَ دِیْنَہٗ، وَیَرْفَعَ کَلِمَۃَ الْإِسْلَامِ، وَیَجْعَلَہٗ غَالِبًا عَلَی الْأَدْیَانِ، وَھُوَ أَعْلَمُ بِعَوَاقِبِ الْأُمُوْرِ، وَھُوَ الَّذِيْ یُدَبِّرُکُمْ بِحُسْنِ تَدْبِیْرِہٖ، وَإِنْ کَانَ الْعِبَادُ یُحِبُّوْنَ خِلَافَ ذٰلِکَ فِیْمَا [1] الکشاف ۲/۱۴۵۔