کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 232
{ہُوَ مَوْلٰنَا} [وہ ہمارے مددگار ہیں] یعنی وہ ہماری نصرت فرمانے والے، انجام ہمارے لیے کرنے والے اور اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب فرمانے والے ہیں۔ اللہ پر توکل (سے مراد): انہیں تمام معاملات سونپنا ہے اور معنیٰ یہ ہے، کہ اہلِ ایمان پر لازم ہے، کہ اپنا توکل صرف اللہ تعالیٰ پر کریں، کسی اور پر توکل نہ کریں۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے، کہ ہمیں صرف وہی پہنچے گا، جو ہمارے مولیٰ نے ہمارے لیے لکھی ہے۔ جب صورتِ حال یہ ہے، تو بندہ اپنے حامی و ناصر رب کریم کی جانب سے آنے والی چیز پر غمگین کیوں ہو؟ کیا اس کے آقا و مالک رب کریم اسے ضرر رساں چیز پہنچائیں گے؟ مصیبت کی پریشانی کے علاج میں اُس کے من جانب اللہ ہونے کے عقیدے کی تاثیر: امام ابن قیم کا بیان: ’’وَ مِنْ عِلَاجِہَا أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ الَّذِيْ ابْتَلَاہُ بِہَا أَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ، وَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ، وَ أَ نَّہٗ سُبْحبانَہٗ لَمْ یُرْسِلْ إِلَیْہِ الْبَلَائَ لِیُہْلِکَہٗ بِہٖ، وَ لَا لِیُعَذِّبَہٗ بِہٖ، وَ لَا لِیَجْتَاحَہٗ، وَ إِنَّمَا افْتَقَدَہٗ بِہٖ لِیَمْتَحِنَ صَبْرَہٗ، وَ رِضَاہُ عَنْہُ، وَ إِیْمَانَہٗ، وَ لِیَسْمَعَ تَضُرَّعَہٗ، وَ ابْتِہَالَہٗ، وَ لِیَرَاہُ طَرِیْحًا بِبَابِہٖ، لَائِذًا بِجَنَابِہٖ، مَکْسُوْرَ الْقَلْبِ بَیْنَ یَدَیْہِ، رَافِعًا قَصَصَ الشَّکْوَیٰ إِلَیْہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ عَبْدُالْقَادِرِ: ’’یَا بُنَیَّ! إنَّ الْمُصِیْبَۃَ مَا جَآئَتْ لِتُہْلِکَکَ، وَ إِنَّمَا جَآئَتْ لِتَمْتَحِنَ صَبْرَکَ وَإِیْمَانَکَ۔ یَا بُنَيَّ! اَلْقَدَرُ سَبُعٌ، وَ السَّبُعُ لَا یَأْکُلُ الْمَیْتَۃَ۔‘‘[1] [1] المعاد ۴/۱۹۴-۱۹۵۔