کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 227
درجِ ذیل ہیں: i: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِیْ أَنْفُسِکُمْ إِِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ نَّبْرَاَہَا إِِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ لِکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتَاکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ}[1] [ترجمہ: زمین پر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی[2] اور نہ ہی تمہاری جانوں میں،[3]مگر وہ اسے[4] پیدا کرنے سے پہلے کتاب میں[5] ہے۔ بلاشبہ وہ (یعنی اس کا لکھنا) اللہ تعالیٰ پر آسان ہے، (یہ بات تمہیں اس لیے بتا دی گئی) تاکہ جو چیز تمہیں نہیں ملی ہے، اس پر افسوس نہ کرو اور جو (نعمت) انہوں نے تمہیں دی ہے، اس پر فخر نہ کرو اور ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے]۔ تفسیرِ آیت: حافظ ابن کثیر رقم طراز ہیں: [1] سورۃ الحدید / الآیتان ۲۲-۲۳۔ [2] جیسے قحط سالی، فصلوں اور پھلوں کی بربادی۔ (ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۸/۲۱۱)۔ [3] جیسے بیماری اور آفت۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۲۱۱)۔ [4] مفسرین نے [اُسے] سے مراد کے متعلق تین اقوال ذکر کیے ہیں: (i) جانوں کی تخلیق سے پہلے۔ (ii) مصائب کے پیدا کرنے سے پہلے۔ (iii) زمین کے بنانے سے پیشتر۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۲۱۱)۔ [5] یعنی تحریر کردہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ثابت شدہ یا لوحِ محفوظ میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۸/۲۱۱)۔