کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 209
مصیبتوں کے حتمی طور پر آنے کا اعتقاد رکھنا دلائل: مصائب کی سختی، اذیت اور تکلیف کو کم کرنے والی اور انہیں برداشت کرنے کا حوصلہ دینے والی ایک بات یہ ہے، کہ بندہ اپنے آپ کو یہ حقیقت سمجھا لے، کہ مصیبتوں نے تو لامحالہ آنا ہی ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے اس سے مفر نہیں۔ متعدد نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ انہی میں سے تین ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: ا: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ َوالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ}[1] [اور یقینا ہم تمہیں (دشمن کے) ڈر، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز سے ضرور آزمائیں گے اور ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجیے، جنہیں جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے، تو کہتے ہیں: ’’بے شک ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم انہی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘]۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، کہ وہ بندوں کو دشمنوں وغیرہ کے خوف اور دیگر بشری مصائب کے ساتھ ضرور آزمائش میں مبتلا کریں گے۔ انہوں نے قبل از وقت اپنے بندوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرما دیا، تاکہ وہ ان کے صبر و ثبات کے ساتھ استقبال اور مقابلے کے لیے پہلے ہی سے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں اور ممکنہ احتیاطی تدابیر کا [1] سورۃ البقرۃ / الآیۃ ۱۵۵-۱۵۶۔