کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 205
کشادہ ہو جاتا ہے۔وہ (یعنی اس کا سینہ) اپنے پہنے ہوئے جبہ کی وسعت اور کشادگی کی مانند ہے۔ جب بھی وہ صدقہ کرتا ہے، تو وہ کشادہ، وسیع اور فراخ ہو جاتا ہے، اس کی فرحت دوبالا اور مسرت دوچند ہو جاتی ہے۔ اگر صدقہ میں صرف یہی ایک فائدہ ہو، تو (یہ بات) بندے کے زیادہ اور جلدی صدقہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔‘‘ پس جو کوئی اپنے گناہوں کے ختم کرنے، رب ذوالجلال کے غضب کو بجھانے، اپنی جان کو عذاب سے بچانے، پریشانیوں، تفکرات اور غموں کو دُور کروانے، مسرت و شادمانی کو پانے، انشراحِ قلب اور سینے کی وسعت حاصل کرنے کی رغبت رکھے، وہ صدقہ کرنے میں اور خصوصاً مخفی صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کرے۔ امام ابن قیم حاسد کے شر کو دُور کرنے والے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اَلصَّدَقَۃُ وَالْإِحْسَانُ مَا أَمْکَنَہٗ ، فَإِنَّ لِذٰلِکَ تَأْثِیْرًا عَجِیْبًا فِيْ دَفْعِ الْبَلَآء، وَ دَفْعِ الْعَیْنِ ، وَشَرِّ الْحَاسِدِ۔ وَلَوْ لَمْ یَکُنْ فِيْ ہٰذَا إِلَّا تَجَارِبُ الْأُمَمِ قَدِیْمًا وَ حَدِیْثًا لَکَفٰی بِہٖ ۔ فَمَا تَکَادُ الْعَیْنُ وَالْحَسَدُ وَالْأَذٰی یَتَسَلَّطُ عَلٰی مُحْسِنٍ مُّتَصَدِّقٍ ، وَإِنْ أَصَابَہٗ شَیْئٌ مِنْ ذٰلِکَ ، کَانَ مُعَامَلًا فِیْہِ بِاللُّطْفِ وَالْمَعُوْنَۃِ وَالتَّأْیِیْدِ ، وَکَانَتْ لَہٗ فِیْہِ الْعَاقِبَۃُ الْحَمِیْدَۃُ۔ فَالْمُحْسِنُ الْمُتَصَدِّقُ فِيْ خِفَارَۃِ إِحْسَانِہٖ وَ صَدَقَتِہٖ ، عَلَیْہِ مِنَ اللّٰہ جُنَّۃٌ وَحِصْنٌ حَصِیْنٌ۔ ‘‘[1] ’’جس قدر بھی ممکن ہو سکے، صدقہ و احسان کرے، کیونکہ بلا کے ٹالنے، نظرِ بد اور حاسد کی شر کے دُور کرنے میں اس کی حیران کن تاثیر ہے۔ قدیم اور جدید امتوں کے [1] التفسیر القیم ص ۵۹۰-۵۹۱۔