کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 181
iv-----xv: امام ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ، وَ الْقِلَّۃِ، وَ الذِّلَّۃِ، وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ۔][1] [ترجمہ: اے اللہ! میں افلاس، تنگ دستی اور ذلّت سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں اور (اس بات سے بھی) آپ کی پناہ کا سوال کرتا ہوں، کہ میں (کسی پر) ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں (یعنی کوئی دوسرا مجھ پر ظلم کرے)‘‘]۔ v-----xv: امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت بیان کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے تھا: [اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ، وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ، وَ فُجَائَۃِ نِقْمَتِکَ، وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ۔][2] [’’اے اللہ! بغیر بدل کے نعمت کے چلے جانے، عافیت کے پھر جانے،[3] آپ کے عذاب کے یک لخت آ جانے اور آپ کی ہر قسم کی ناراضی سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں]۔ گفتگو کا حاصل یہ ہے، کہ ہر ذی عقل کو چاہیے، کہ ان دعاؤں اور ذخیرۂ سنت میں [1] سنن أبي داود، تفریع أبواب الوتر، باب في الإستعاذۃ، رقم الحدیث ۱۵۴۱، ۴/۲۸۲۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبی داود ۱/۲۸۷)۔ [2] صحیح مسلم، کتاب الرقاق، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب أکثر أھل الجنۃ الفقراء…، رقم الحدیث ۹۶۔ (۲۷۳۹)، ۴/۲۰۹۷۔ [3] جیسے صحت کا بیماری اور تونگری کا فقیری سے بدل جانا۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۴/۲۸۳)۔