کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 178
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبتوں کے آنے سے پہلے ہی ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ مصاب سے بچاؤ کا خواہش مند ہر شخص، اُن کے آنے سے پہلے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاؤں کے ساتھ اُن سے پناہِ الٰہی کا سوال کرتا رہے۔ اس بارے میں ذیل میں پانچ دعائیں ملاحظہ فرمائیے: i-----xi: امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْہَمِّ وَ الْحَزَنِ، وَ الْعَجْزِ وَ الْکَسَلِ، وَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ، وَ ضَلَعِ الدَّیْنِ، وَ غَلَبَۃِ الرِّجَالِ] [1] [’’اے اللہ! بلاشبہ میں آپ کی ہم، غم،[2] بے بسی، کاہلی،[3] بخیلی، قرضے کے شدید دباؤ[4] اور آدمیوں کے غلبے سے پناہ طلب کرتا ہوں]۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک دوسری روایت میں ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’فَکُنْتُ أَسْمَعُہٗ یُکْثِرُ أَنْ یَقُوْلَ … الحدیث‘‘۔[5] [1] صحیح البخاري، کتاب الدعوات، باب الاستعاذۃ من الجبن والکسل، رقم الحدیث ۶۳۶۹، ۱۱/۱۷۸۔ [2] (الہمّ) زمانۂ حاضر میں عقل جس پریشانی کا تصور کرتی ہے اور (الحزن): جو زمانہ ماضی میں ہو چکا، اس کے حوالے سے لاحق ہونے والی پریشانی۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱/۱۷۸)۔ [3] (اَلْعَجْزِ): [بے بسی]۔ یہ قوت و طاقت نہ ہونے کے سبب ہوتی ہے۔ (اَلْکَسَلِ): [کاہلی]۔ یہ ارادے کے نہ ہونے کے سبب ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر القیم ۵۴۷)۔ [4] (ضلع الدَّیْن): قرضے کا شدید دباؤ، کہ قرض دینے والے کے مطالبے کے باوجود ادا کرنے کے لیے کچھ پاس موجود نہ ہو۔ (ملاحظہ: المرجع السابق ۱۱/۱۷۴)۔ [5] صحیح البخاري، جزء من رقم الحدیث ۶۳۶۳، ۱۱/۱۷۳۔