کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 149
اور اپنے فقر سے پہلے اپنی تونگری کو اور اپنی مشغولیت سے پہلے اپنی فراغت کو اور اپنی موت سے پہلے اپنی زندگی کو]۔ ۴: امام بخاری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، کہ بلاشبہ انہوں نے فرمایا: ’’اِرْتَحَلَتِ الدُّنْیَا مُدْبِرَۃً، وَ ارْتَحَلَتِ الْآخِرَۃُ مُقْبِلَۃً، وَ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا بَنُوْنٌ، فَکُوْنُوْا مِنْ أَبْنَائِ الْآخِرَۃِ، وَ لَا تَکُوْنُوْا مِنْ أَبْنَائِ الدُّنْیَا، فَإِنَّ الْیَوْمَ عَمَلٌ وَّ لَا حِسَابَ، وَ غَدًا حِسَابٌ وَ لَا عَمَلَ‘‘۔[1] [’’دنیا مُنہ موڑ کر جا رہی ہے اور آخرت اپنا رخ (ہماری طرف) متوجہ کر کے آ رہی ہے۔ دونوں میں سے ہر ایک بیٹے ہیں، سو تم آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹوں میں شامل نہ ہو جاؤ، کیونکہ آج (وقتِ) عمل ہے اور (آخری) حساب نہیں اور کل حساب ہے اور (فرصتِ) عمل نہیں‘‘]۔ ۵: امام بخاری نے اشعار کی صورت میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اِغْتَنِمْ فِيْ الْفَرَاغِ فَضَلَ رُکُوْعِ فَعَسٰی أَنْ یَّکُوْنَ مَوْتُکَ بَغْتَۃً کَمْ صَحِیْحٌ رَأَیْتُ مِنْ غَیْرِ سُقْم ذَھَبَتْ نَفْسُہُ الصَّحِیْحَۃُ فَلْتَۃً[2] [فراغت میں رکوع کی فضیلت (کے پانے) کو غنیمت جانو، کیونکہ شاید کہ تمہاری موت یکایک ہو جائے۔ [1] صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب في الأمل و طولہ، ۱۱/۲۳۵۔ [2] ھدي الساري مقدمۃ فتح الباري ص ۴۸۱۔