کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 144
ایسے نہیں، کہ یہ دونوں باتیں ہی ہوں یا دونوں ہی نہ ہو۔[1] جب [امر بالمعروف اور نہی عن المنکر] ہو گا، تو عذاب نہیں ہو گا اور جب [امر بالمعروف اور نہی عن المنکر] نہیں ہو گا، تو عذابِ الٰہی ہو گا۔ گفتگو کا ماحاصل یہ ہے، کہ جو شخص چاہے، کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض نہ ہوں اور اُس پر دنیوی عذاب نازل نہ ہوں، تو اسے چاہیے، کہ وہ ہر گناہ اور خصوصاً ایسے گناہوں سے دُور رہے، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اخروی عذاب سے پہلے دنیوی سزائیں مقرر فرما رکھی ہیں۔ -۴- گناہوں کی معافی طلب کرتے رہنا استغفار کے عذاب سے بچانے کے متعلق دو دلائل: بندے کو اللہ تعالیٰ کے غیض و غضب اور عذاب سے بچانے والی ایک مؤثر، قوی اور مفید بات بندے کا اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہنا ہے۔ اس کے متعلق ذیل میں دو دلائل ملاحظہ فرمائیے: ا: ارشاد باری تعالیٰ: {وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَ أَنْتَ فِیْہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ}[2] [اور جب تک آپ ان کے درمیان رہیں گے، اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دیں گے اور جب تک وہ گناہوں کی معافی طلب کرتے رہیں گے، [1] بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني ۱۹/۱۷۳۔ [2] سورۃ الأنفال / الآیۃ ۳۳۔