کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 114
وہ اپنا پہلو موڑنے والا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے گمراہ کرے۔ اُس ہی کے لیے دنیا میں سنگین رُسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اُسے (جہنم میں) جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ وہ اُس کا نتیجہ ہے، جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور یقینا اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا]۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے، کہ جس کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ عقلی و نقل دلیل کے بغیر جھگڑا کیا، تو اللہ تعالیٰ اُسے آخرت سے پہلے دنیا میں رُسوا کریں گے۔ پھر آخرت میں دوزخ کی آگ کا عذاب دیں گے۔ تفسیر آیت: شیخ سعدی رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں: ’’وَ ہٰذَا مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ الْعَجِیْبَۃِ، فَإِنَّکَ لَا تَجِدُ دَاعِیًا مِّنْ دُعَاۃِ الْکُفْرِ وَ الضَّلَالِ، إِلَّا وَ لَہٗ مِنَ الْمَقْتِ بَیْنَ الْعَالَمِیْنَ، وَ اللَّعْنَۃِ، وَ الْبُغْضِ، وَ الذَّمِّ، مَا ہُوَ حَقِیْقٌ بِہٖ، وَ کُلُّ بِحَسْبِ حَالِہٖ‘‘۔[1] ’’یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ آپ کفر و ضلال کا پرچار کرنے والے ہر شخص کو دیکھیں گے، کہ اُن میں سے ہر ایک کے لیے، اس کے لیے جہانوں میں، اس کے مناسبِ حال ناپسندیدگی، لعنت، بغض اور مذمت ہے۔‘‘ -v- بغي[2] -vi- قطع رحمى [1] تفسیر السعدي ص ۵۳۴۔ [2] (البغي): امام ابن اثیر لکھتے ہیں: ’’[البغي] سے بنیادی طور پر مراد [حد سے تجاوز کرنا ہے]۔ (ملاحظہ ہو: النہایۃ في غریب الحدیث و الأثر، مادۃ ’’بغي‘‘، ۱/۱۴۳)۔ شیخ عظیم آبادی نے تحریر کیا ہے: ’’[اَلْبَغْيُ] یعنی [سرکش کی سرکشی] اور وہی [ظلم] ہے، یا (شرعی) حاکم کے خلاف بغاوت، یا تکبر۔‘‘ (عون المعبود ۱۳/۱۶۷)۔