کتاب: لا تیأسوا من روح اللّہ - صفحہ 102
غرض سے حاضر ہوا۔ انہوں نے اس شخص سے فرمایا: ’’لَا تَبْرَحْ حَتّٰی تُصَلِّيَ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ: ’’لَا یَخْرُجُ بَعْدَ النِّدَائِ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا مُنَافِقٌ، إِلَّا رَجُلٌ أَخْرَجَتْہُ حَاجَۃٌ، وَ ھُوَ یُرِیْدُ الرَّجْعَۃَ إِلَی الْمَسْجِدِ۔‘‘ [’’نماز ادا کیے بغیر نہ جانا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اذان کے بعد مسجد سے منافق کے سوا اور کوئی نہیں نکلتا، مگر وہ شخص، کہ اُسے حاجت نکلنے پر مجبور کرے اور وہ واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہو۔‘‘] تو اس شخص نے جواب دیا: ’’إِنَّ أَصْحَابِيْ بِالْحَرَّۃِ۔‘‘ [بلاشبہ میرے ساتھی حرہ[1]میں ہیں۔] انہوں (راوی) نے بیان کیا: ’’سو وہ شخص چلا گیا۔‘‘ انہوں نے (مزید) بیان کیا: ’’فَلَمْ یَزَلْ سَعِیْدٌ یُوْلَعُ بِذِکْرِہٖ، حَتّٰی أُخْبِرَ أَ نَّہٗ وَقَعَ مِنْ رَّاحِلَتِہٖ، فَانْکَسَرَتْ فَخِذُہٗ۔‘‘[2] [’’(اس کے بعد حضرت) سعید اس کا اہتمام سے ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں خبر دی گئی، کہ وہ سواری سے گرا ہے اور اس کی ران ٹوٹ گئی ہے۔‘‘] امام دارمی نے اس روایت کو درجِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کیا ہے: [بَابُ تَعْجِیْلِ عَقُوْبَۃِ مَنْمبَلَغَہٗ عَنِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم حَدِیْثٌ فَلَمْ یُعَظِّمْہُ وَ لَمْ یُوَقِّرْہُ]۔ [3] [1] (الحرۃ) سیاہ پتھروں والی زمین کو [اَلْحَرَّۃُ] کہتے ہیں۔ عرب کے علاقے میں ایسی جگہیں بہت زیادہ ہیں۔ اُن کی اکثریت مدینہ طیبہ کے گرد و پیش سے لے کر شام تک ہے۔ (ملاحظہ ہو: معجم البلدان ۲/۲۸۳)۔ [2] سنن الدارمي، رقم الحدیث ۴۵۲، ۱/۹۸۔ [3] سنن الدارمي ۱/۹۶۔