کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 83
اور تکوینی نظام میں اور ان کے خالق و مدبر حضرت حق کے علم وارادہ اور فیصلہ و حکم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین بنانے کی واقعیت موجود تھی۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اول لمحہ سر فرازی سے یقین کا مل تھا اور اس کا واضح اظہار آپ کے اعلان و ارشاد میں بھی اول روز سے سب کے سامنے ہوا تھا۔ روایات سیرت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان بنی عبدمناف کو دعوت دیتے ہوئے اپنی بعثت آخریں کا اعلان کیا تھا(52)۔ کوہ صفا کے خطبہ عام و علانیہ تبلیغ کے عوامی خطاب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاتم النبیین، تمام انسانوں کے رسول آخر الزماں بنائے جانے کا اظہار کیا، عام طور سے ختم نبوت اور خاتم النبیین سے متعلق متعدد احادیث کو محض ان کی مدنی ترسیل اور متاخررواۃ کی روایت کی بنا پر اپنوں نے بھی مدنی ارتقاء سمجھ لیا: ((وكانَ النبيُّ يُبْعَثُ إلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وبُعِثْتُ إلى النَّاسِ عَامَّةً)) (بخاری ومسلم بروایت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ) ((أمَّا أنا فأُرسِلتُ إلى الناسِ كلِّهم عامَّةً، وكان مَن قَبْلي إنَّما يُرسَلُ إلى قَومِه)) ”مسند احمد بن حنبل بروایت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ“ ((بُعثتُ إلى الأحمرِ والأسودِ)) ”مسند احمد بروایت حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ رضی اللہ عنہ۔ “ ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَة كَهَاتَيْن ) يعني : إصبعين)) (بخاری و مسلم) ((وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ)) (بخاری و مسلم) ((فَأَنَا اللَّبِنَةُ. وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ)) (بخاری و مسلم) ((فأنا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الأنْبِياءَ)) ( مسلم) ((وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ.)) (ترمذی، نسائی، مسلم) ((وأنا خاتم النبيّين، ولا فخر)) (دارمی) (سنن) اسی طرح مدنی آیت کریمہ: ((مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ