کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 77
1/123۔ 125:ابن سعد 1/60۔ 61۔ جدید اردو سیرت نگاروں میں شبلی، 1/181۔ 182۔ نے ابن ہشام اور سہیلی کے حوالے سے یہ نکتہ ابھارا ہے کہ آپ نے شرکت ضرور کی مگر کسی پر ہاتھ اٹھایا ا ورنہ جنگ کی۔ کاندھلوی، 1/93۔ 94 نے بھی علامہ سہیلی کا وہی اقتباس نقل کیا ہے جو شبلی نے کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ”اپنے بعض چچاؤں کے اصرار سے شریک ہوئے مگر قتال نہیں فرمایا“۔ یہ جدید مسلم اور اردوسیرت نگاروں کا ایک راہبانہ رجحان ہے جس کے تحت وہ آپ کے قتال وجنگ سے گریز کا عذر تراشتے ہیں اور بعد میں غزوات میں بھی یہی رجحان یا تصویر پیش کرتے ہیں، مزیدملاحظہ ہو، حکیم محمود احمد ظفر، سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تخلیقات لاہور 2010ء، 150۔ 152 انھوں نے لکھا ہے کہ”نہ صرف تصادم وجنگ میں شریک ہونے سے محفوظ رکھا بلکہ اپنے چچاؤں کو دشمنوں کے تیروں سے بچانا تھا۔ ۔ ۔ “۔ 40۔ حلف الفضول میں شرکت کے لیے:ابن اسحاق /ابن ہشام، 1/93 ومابعد، ابن سعد، 1/61۔ ابن ہشام/ابن اسحاق نے اسی حلف الفضول کے ساتھ امو ی خلافت کے زمانے کے ایک تنازعہ کو جوڑدیا ہے جس کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ اموی رضی اللہ عنہ امیر مدینہ کو اسی حلف کے حوالے سے جنگ کی تہدید کی تھی، حالانکہ وہ رقابت اموی کا افسانہ ہے۔ شبلی، 1/182۔ 183۔ کاندھلوی، 1/94 نےاسے جنگ فجار سے واپسی پرجنگ وقتال کے خلاف معاہدہ قراردیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ وہ مظلوموں کی دادرسی کا معاہدہ تھا اور وہ جنگ فجار کےپندرہ سال بعد پیش آیاتھا جب آپ کی عمرشریف 35 سال کی تھی، کاندھلوی نے شبلی کا خیال لے کر اس پر بعض تفصیلات کا اضافہ کیا ہے۔ واقدی کی دوروایات سے جواضافہ کیا ہے اس میں حضرت حکیم بن حزام اسدی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حرب فجار سے واپسی پرحلف الفضول کا انعقاد ہوا جبکہ آپ کی عمر بیس سال کی تھی اور جنگ فجار شوال میں ہوئی اور اس کے ایک ماہ کے بعد ذوالقعدہ میں حلف الفضول ہوئی اور حضرت جبیر بن معطم نوفلی کی روایت سے آپ کی شرکت اور تحسین وتوصیف حلف الفضول کی حدیث ہے۔ مودودی، 2/109۔ 111۔ نے بھی ان دونوں واقعات میں ترتیب وار آپ کی بیس سال کی عمر کے