کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 55
وسیع النظری کا خیال نہیں رکھا۔ دین حنیفی کے اقدار بقیہ نقیہ کے علاوہ وہ حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی کشش اور مرتبت اور اپنے بیگانے سب کو موہ لینے کی فطرت بھی فراموش کردی۔ روز اول سے آپ کی انا حضرت ام ایمن اور دونوں رضاعی ماؤں، ثویبہ وحلیمہ اور ان کے فرزندوں، دختروں اور عزیزوں کی زیارت وخدمت ومحبت بھی نظر انداز کردی۔ ان سب کی تربیت ظاہری اور کفالت مادی نے مجموعی طور سے حضرت محمد بن عبداللہ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکپن سے جوانی اور پختہ عمری تک شخصیت سازی میں حصہ لیا تھا۔ (33)۔ ظاہری معروف روایات کی گرفت میں ان میں سے صرف چند واقعات وحوادث صحیح معنوں میں آسکے جیسے رعی غنم کا واقعہ وسنت نبوی یہ خبر واحد و”غیر متصل“ صرف مکہ مکرمہ اور خاندان کے مویشیوں کے چرانے تک محدود ہے مگر رعی غنم کا سلسلہ نبوت تھا جو حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر سے شروع ہوا۔ لڑکپن میں مکہ میں جاری رہا اور بعد میں نوجوانی میں اہل مکہ کی بکریاں اور مویشی قیراط کی اجرت پر چرانے کا کام کیا، کمانے اور اکل حلال کا ہنر اور عرب شرفاء کے لڑکوں بالوں اور جوانوں کا پیشہ سیکھا۔ وادیوں، پہاڑوں اور ان کے نشیب و فراز سے او ر ان کی جھڑ بریوں اورجھاڑیوں سے واقفیت حاصل کی۔ ظاہر ہے کہ ساتھی چرواہوں سے محبت ویگانگت کے تعلقات قائم کرنے سیکھے اور مویشیوں کے مالکوں سے حسن سلوک وحسن خدمت کا لین دین کیا(34)۔ ٭ دونوں حقیقی اعمام کے ساتھ شام وبصریٰ اور راہ میں مدینہ او ریمن وغیرہ کے تجارتی اسفار میں اولین تجارتی ہنرمندی اور اس کے گر سیکھے۔ دوسرے اعمام میں حضرت عباس وحمزہ رضی اللہ عنہما وغیرہ کے ساتھ بھی لڑکپن میں تجارتی تجربات حاصل کیے تھے اور ان میں خاص عظیم ترین شاہراہ تجارت سے واقفیت تھی۔ ان ہی چاہنے والے اعمام نے بیس برس کی عمر تجارت میں قریش کے عظیم ترین فتی/جوان محمد بن عبداللہ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ اور قریش کے تجار کرام سے رسمی طور سے متعارف کرایا اور ان میں سے