کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 301
بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ))دودھ کے مقام پیداوار کا تعین خالص علمی اور سائنسی اکتشاف ہے جس کی خبر امی میکوں کو تھی نہ عالم شہریوں کو اور آج کے سائنسی اکتشافات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ النحل (شہد کی مکھی) کے نام سے ایک پوری مکی سورت موسوم کی گئی کہ اس کی حیات، کارکردگی، بود باش اور افادیت آیت الٰہی ہے۔ اپنے نام کی سورہ کی آیات:68ومابعد میں رب جلیل فرماتا ہے کہ اس نے شہد کی مکھیوں کو دحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں اور اونچی جگہوں پر اپنا ٹھکانہ بنائیں۔ اور ہر قسم کے پھلوں پھولوں (ثمرات) کو اپنا کھانا بنائیں اور اپنے رب کے راستوں میں فروتنی سے چلیں۔ ان کے بطون سے مختلف رنگوں کی شراب (مشروب)نکلتی ہیں جس میں انسانوں کے واسطے شفاء ہے۔ شہد کی مکھی کی زندگی اور اس کی اجتماعیت کے قرآنی اشارات اس کی علمی اور سائنسی حیرت ناک حالتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور شہد (غسل) کی افادیت ثابت کرتے ہیں۔ دوسری آیات کریمہ کے علاوہ احادیث نبویہ میں بھی اس کی افادیت و شفا کا بھر پور بیان ملتا ہے:سورہ محمد:15مین غسل مصفی کی جنتی نہروں کا ذکر ہے اور احادیث معراج میں بھی شہد کے پیالے کا ذکر ہے۔ پرندے (طیور) غیر انسانی حیوانات میں ایک خاص امت طیور اور پرندوں کی ہے جسے قرآن مجید میں طائر و طیور، طیر کہا ہے کہ وہ اپنے پروں اور ڈنکوں کے سہارے فضا میں اڑتی پھرتی ہے۔ اور اس طاقت پرواز اور فنائے بسیط میں ان کے قراربے قرار کا ذکر بطور قدرت الٰہی کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ نحل:79 ((أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ ۗ))اور سورہ ملک :19وغیرہ میں ہے۔ ان کی تخلیقی جہات کا بھی اہم ذکر ہے۔ سورہ انعام 38۔ (( وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ))