کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 212
الفرس اور اسفند باذ ورستم کی احادیث(قصے) اپنے چہرہ کے قیام میں سیکھتے تھے۔ اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرتا اور قریش کے اکابر کو یقین دلاتا کہ اس کے پاس زیادہ اچھے قصے ہیں((أَحْسَنَ الْحَدِيثِ مِنْهُ))وہ اور متعدد دوسرے اکابر قریش قرآنی قصص کو اساطیر الاولین کہتے تھے اور اس کی تردید قرآن کی آٹھ آیات کریمہ اتریں:سورہ قلم:15((إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ)) نضر بن حارث اپنے معاون وصاحب عقبہ بن ابی معیط اموی کے ساتھ یثرب کے احبار یہود کے پاس مواد مخاصمت ومباحثہ لینے گیا۔ سورہ کہف کا نزول یہودی علماء واحبار نے ان شیاطین قریش کو بتایا کہ تین معاملات کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو، اگر وه ان كے صحيح جواب ديں تو نبی مرسل ہیں اور نہ دے سکیں تو مفتری وکاذب(مقتول) ہیں: وہ سوالات:اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے بارے میں تھے، سورہ کہف میں ان تینوں سوالات کا مفصل جواب دیاگیا ہے۔ امام ابن اسحاق نے اس کو بہت مفصل بیان بھی کیا ہے۔ اور امام سہیلی نے اس کی شاندار تشریح کی ہے۔ اس میں جبال(پہاڑوں) کے چلنے اور مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے(بعث الموتی) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے انبیاء کی مانند کھانا کھانے اوربازاروں پر چلنے پھرنے، قریشی معاندین کے مطالبہ معجزات، رحمٰن نامی شخص یمامہ کے قرآن سکھانے کے الزام کی تردید وغیرہ متعدد اتہامات ومخاصمت کا بھی حوالہ متعدد سورتوں کے حوالے سے ہے:سورہ فرقان، سورہ اسراء سورہ عنکبوت، سورہ علق، سورہ لقمان، سورہ سبا وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔ واقعہ اسراء معراج کے ضمن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مباحثہ ومخاصمہ ملتا ہے جو انھوں نے منکرین اسلام سے کیا تھا کہ ہم تو معراج وسراء سے زیادہ اہم