کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 157
کہ اس پندرہ سالہ زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے قریشی تاجروں کے مال کے ساتھ مضاربت یا شراکت کی بنیاد پر تجارت کی ہو، کیونکہ یہ تمام چھوٹے بڑے قریشی اور دوسرے عرب تاجروں کا طریقہ تھا۔ اس میں نفع کی شرح بڑھتی جاتی تھی اور اسی کے ساتھ دولت بھی آتی تھی۔ قریشی تاجروں کی تجارت کی تجارتی مہارت کا یہ عالم تھا کہ وہ سو فیصد نفع اکثر وبیشتر کماتے تھے۔ حضرات صحابہ نے بھی اسی طرح اصل مال پر سو فیصد نفع کمایا تھا۔ نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقتی دینی واسلام کی تبلیغ، شریعت و قرآن کی تعلیم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت میں لگ گئے اور تجارت دوسرے تاجروں کے ذریعہ کرنے لگے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب مال کی حیثیت سے اپنے گھرانے کا سامانِ تجارت قریشی وعرب تاجروں کو خاص نفع کی شرح یا شراکت کی بنیاد پر عطا کردیتے۔ بلاذری، ابن کثیر اور بعض دوسرے مورخین کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد نبوت کی زندگی میں ابوسفیان بن حرب اموی جیسے بڑے قریشی تاجر وصاحب مال کے ساتھ شراکت میں تجارت کی تھی اور وہ شام اور بعض دوسرے علاقوں میں مسلسل کی جاتی رہی تھی۔ نبوی مکی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور تاجر کہیں نہ گئے۔ (118)۔ صحابہ کرام کی تجارت ان ہی تین طریقوں کے ذریعہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مالدار مسلمانوں نے مکی زندگی میں تجارت کا کاروبار کیا تھا۔ شامی تجارت شام سے وابستہ بڑے صحابہ کرام میں شامل تھے:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو مسلسل جاتے رہتے تھے اور مدینہ سے گزرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان اموی رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف زہری رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن عوام اسدی رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی شامی تجارت سے بہت وابستہ تھے۔