کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 133
پاک وصاف زندگی گزارنا وغیرہ۔ (99)۔ شراب ہر دین اسلام میں حرام رہی اور مکی اسلامی شریعت میں بھی وہ حرام رہی۔ اسے کبھی حلال نہیں قراردیا گیا۔، یہاں تک کہ جاہلی عرب بھی اسے حرام سمجھتے تھے اور بہت سے نیک لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے اور جو پیتے پلاتے تھے وہ بھی اسے حرام ہی سمجھ کر پیتے پلاتے تھے۔ مکی دور میں جن مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس ام الخبائث کو منہ لگالیا تھا وہ ان کے لیے حلال نہیں بنتی تھی بلکہ ان کی عادت بد سمجھ کر اسے برداشت کیا گیاتھا۔ اسی طرح چوری، ڈاکہ زنی، مال حرام کھانے، ربا اور سود قتل وغارت گری، بدکاری وزنا اور قمار بازی او جوا جیسی چیزیں بھی حرام ہی رہی تھیں۔ شراب کی طرح ربا اور سودکبھی حلال نہیں رہا، ہمیشہ اورہرشریعت میں حرام ہی رہا اور اسلامی مکی شریعت میں بھی حرام ہی تھا۔ بس اسے معاشی مجبوری سمجھ کر برداشت کیاگیا اور ان دونوں کو اوردوسرے حرام کاموں کو دھیرے دھیرے روکا گیا اور بعض نیک فطرت اور حوصلہ مند لوگوں نے ان کو ایک لخت حرام کرلیا۔ (100)۔ اسی مکی دور میں احکام اور ان کے اطلاق ونفاذ کے اصول کاارتقاء ہوا، فقہی اصول ہے کہ بعض مخصوص حالات میں احکام معطل ہوجاتے ہیں جیسے قحط اور بھوک میں چوری کی حد۔ مکی دور میں شراب اور سود کی حرمت کا حکم قائم ودائم رہا تھا، اس کا نفاذ واطلاق البتہ رفتہ رفتہ کیا گیا۔ قبولِ اسلام کے بعد تو وہ دونوں حرام ہوجاتے اور نافذ بھی۔ مفصل بحث اسلامی احکام کے ارتقاء کے باب حلال وحرام میں ہے۔ (101)۔ نسب ونکاح کےاحکام نکاح وطلاق کے احکام بھی اسلامی مکی شریعت میں موجود تھے اور ان پر عمل دینی حنیفی کے ماننے والوں کا بعثت نبوی سے پہلے سے چلا آرہا تھا۔ حدیث حضرت عائشہ : 5127 کے مطابق نکاح کی چار جاہلی روایات میں سے صرف ایک صحیح تھی اور وہی اسلامی نکاح ہے۔ نکاح المقت کو حرام سمجھاجاتا تھا۔