کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 124
دونوں میں بہت وضاحت سے ملتا ہے کہ پیغمبروں کے دین میں یہ چاروں ارکان تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی اپنی دعا میں یہ عرض کیا تھا: پروردگار!میں نے اپنی ایک اولاد کو تیرے مقدس گھر کے نزدیک بے آب و گیاہ وادی میں اس لیے بسایا ہے کہ وہ نماز قائم کریں۔ لہٰذا لوگوں کے دل ان کی محبت سے بھردے۔ انھوں نے حج کا نظام بھی قائم کیا اور زکوٰۃ و روزہ بھی دین ابراہیمی میں تھے۔ ان کے فرزند اکبر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے ان کو میراث میں پایا اور ان پرعمل کرتے تھے اور اپنےاہل و عیال کو نماز قائم کرنے کا حکم دیتے تھے۔ دوسری شاخ ابراہیمی، نسل اسحاق میں بھی نماز و زکوٰۃ، روزہ وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔ حج تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے کبھی نہیں رکا اور تمام لوگ جو مسلم تھے خانہ کعبہ کا حج ادا کرتے رہےتھےاور دوسری عبادات بھی۔ نماز، زکوٰۃ اور روزہ وصوم کا ذکر حضرات موسیٰ، عیسیٰ، زکریا، یحییٰ، داؤد، سلیمان اور حضرت مریم علیہم السلام کے بارے میں بھی ملتا ہے۔ (86) صلوٰۃ (نماز) ارکان اسلام کی ابراہیمی واسماعیلی میراث حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں روز اول سے آگئی تھی۔ دین حنیفی کی جاہلی میراث میں بھی اس کی ایک شکل موجود تھی اور اس پر قریش مکہ اور دوسرے عربوں کا عمل بھی تھا۔ قرآن کریم کی پہلی تنزیل، سورہ اقراء1۔ 5کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو اور نماز کی صحیح ہئیت و شکل کی تعلیم دی۔ وہ وہی وضو اور نماز ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔ نماز کی ان دو رکعتوں میں تکبیر تحریمہ، قیام قراءت، رکوع، قومہ اوردوسجدوں کے ساتھ ان کے درمیانی جلسہ اور ان سب کی تسبیحات شامل تھیں اور آخری رکعت میں تشہد، درود اور دعا اور دونوں طرف سلام پھیرنا بھی داخل تھا۔ اسی کو مذکورہ بالا علماء محققین و محدثین ((اصل الصلاة)) (نمازکی اصل یا صل نماز)کہتے ہیں۔ مختلف اوقات کی نمازیں