کتاب: خطبات سرگودھا (سیرت نبوی ص کا عہد مکی) - صفحہ 118
حواشی 17۔ معجزات نبوی دراصل آیات الٰہی ہیں اور اسی حیثیت سے ان کا ذکر قرآنی آیات میں ہے۔ چند مکی آیات معجزات: انعام:35: ((وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ))سورہ انعام:37: ((قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً))یہی حقیقت سورہ یونس: 30وغیرہ میں دہرائی گئی ہے۔ سورہ غافر:78 کی آیات بہت واضح ہے۔ ((وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ)) اور اسی کا خالص مدنی روپ ہے سورہ رعد:38: الفاظ یکساں ہیں۔ ان تمام آیات کا تقابلی اور تجریاتی مطالعہ ایک اہم خدمت ہوگی۔ 72۔ ابن سعد1/71۔ 80ومابعد ((ذكر علامات النبوة في رسول الله صلي الله عليه وسلم قبل ان يوحي اليه)) تمام کتب سیرت میں معجزات نبوی کے ابواب خاص ہیں اور ان میں سے بعض میں یہ دوگونہ تقسیم بھی ملتی ہے۔ بخاری، ((كتاب المناقب، باب علامات النبوة في الاسلام))جس میں زیادہ احادیث مدنی دور کی ہیں بہر حال حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری6/، 709و مابعد میں مکی دور کے معجزات کا خاصا ذکر ابن اسحاق، حاکم وغیرہ سے کیا ہے۔ 73۔ بحث و تفصیل کے لیے بخاری، فتح الباری، 6/435ومابعد، کتاب احادیث الانیباء ملاحظہ ہو۔ اس میں واقعات کے ساتھ معجزات انبیاء کرام کا بھی ذکر ہے۔ 74۔ اس پر بحث وحی حدیث اور بعثت سے قبل عصمت نبوی میں گزر چکی ہے۔ متعدد آیات قرآن اور احادیث میں بھی اس کی شہادتیں محفوظ ملتی ہیں۔ عصمت انبیاء کرام اور خاص کر