کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 98
کرنے سے بچ جاؤ، کیوں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( مَنْ أَتیٰ عَرَّافًا فَسَأَلَہٗ عَنْ شَیْیٍٔ لَمْ تُقْبَلْ لَہٗ صَلَاۃُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً )) [1] ’’جو شخص کسی عراف و نجومی کے پاس آکر اس سے کسی چیز کے متعلق کچھ دریافت کرے، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہٗ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم )) [2] ’’جو شخص کسی کاہن یا عراف و نجومی کے پاس آیا اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ مانا تو بلاشبہہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی چیز (کتاب و حکمت) کا انکار کیا۔‘‘ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ أَوْ تُطُیِّرَ لَہٗ، أَوْ تَکَھَّنَ أَوْ تُکُھِّنَ لَہٗ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَہٗ )) [3] ’’جس نے بدشگونی لی یا اس کے لیے بدشگونی لی گئی، یا جس نے کہانت (اٹکل سے غیب کی خبر دینا) کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی، یا اس نے جادو کیا یا اس کے لیے جادو کیا گیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ مسلمانو! صاف ستھری توحید کو گندگیوں سے بچاؤ اور شرک کی آلودگیوں سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ آگاہ رہو! یقینا کسی درخت یا قبر یا حجر یا خطے یا غار یا چشمے یا کسی یادگار سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں کفار کا ایک بیری کا درخت دیکھا، جس کے پاس وہ اعتکاف کرتے اور اس کی شاخوں کے ساتھ بطورِ برکت اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس درخت کا نام ذاتِ انواط تھا، چلتے چلتے وہ ایک بڑے سے سرسبز بیری کے درخت کے پاس سے گزرے تو عرض کی: اے اﷲ کے [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۳۰) [2] مسند أحمد (۲/ ۴۲۹) حلیۃ الأولیاء (۸/ ۲۴۶) کنز العمال (۶/ ۱۱۴) [3] مجمع الزوائد للھیثمي (۵/ ۲۰۱) مسند البزار (۲/ ۳۰)