کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 96
(( أَمَا إِنَّھَا لَا تَزِیْدُکَ إِلَّا وَھْنًا، اِنْبِذْھَا عَنْکَ فَإِنَّکَ لَوْ مِتَّ وَھِيَ عَلَیْکَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا )) [1] ’’یہ تو تیری کمزوری میں ہی اضافہ کرے گا، لہٰذا اسے اتار پھینکو، اگر اسے پہنے ہوئے تیری موت واقع ہوجاتی تو تو کبھی فلاح نہ پاتا۔‘‘ نیز فرمایا: (( مَنْ تَعَلَّقَ تَمِیْمَۃً فَلَا أَتَمَّ اللّٰہُ لَہٗ وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَۃً فَلَا وَدَعَ اللّٰہُ لَہٗ )) [2] ’’جس نے تعویذ لٹکایا، اﷲ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جس نے کوڑی اور گھونگا لٹکایا اﷲ تعالیٰ اسے آرام و سکون نہ پہنچائے۔‘‘ مسند احمد میں یہ حدیث بھی ہے کہ بلاشبہہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگوں کا ایک گروہ حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو آدمیوں کی بیعت لے لی اور ایک آدمی کی بیعت لینے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، انھوں نے عرض کی: یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو آدمیوں سے تو بیعت لے لی ہے اور اس شخص کو چھوڑ دیا ہے (کیوں)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ عَلَیْہِ تَمِیْمَۃً )) ’’(میں نے اس لیے اس سے بیعت نہیں لی کہ) بلاشبہہ اس نے تعویذ پہنا ہوا ہے۔‘‘ اس شخص نے اسی وقت ہاتھ گردن میں ڈالا اور اس تعویذ کو کاٹ پھینکا (اطاعت ہو تو ایسی!) پھر آپ ۔بأبي و أمي، صلوات اللّٰه وسلامہ علیہ۔ نے اس شخص سے بیعت لے لی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ عَلَّقَ تَمِیْمَۃً فَقَدْ أَشْرَکَ )) [3] ’’جس نے تعویذ باندھا تو بلاشبہہ اس نے شرک کیا۔‘‘ روایت کیا گیا ہے کہ بلاشبہہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا، جس نے اپنے ہاتھ میں ایک دھاگا اور تعویذ باندھ رکھا تھا، جس پر بخار کا دم کیا گیا تھا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ [1] مسند أحمد (۴/ ۴۴۵) اس کی سند میں دو علتیں ہیں جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، ایک اس میں ’’مبارک بن فضالہ‘‘ مدلس راوی ہے اور ’’عن‘‘ سے بیان کرتا ہے، دوسرا ’’حسن‘‘ اور عمران رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، کیونکہ حسن کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ [2] مسند أحمد (۴/ ۱۵۴) صحیح ابن حبان (۱۳/ ۴۵۰) المستدرک للحاکم (۴/ ۲۴۰) [3] مسند أحمد (۴/ ۱۵۶)