کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 94
امام نسائی رحمہ اللہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا: ہم لوگ کسی بات پر مذاکرہ کر رہے تھے، جبکہ صورت حال یہ تھی کہ میں ابھی نیا نیا مسلمان ہوا تھا، لہٰذا میں نے اس دوران میں لات اور عزّیٰ کی قسم اٹھا لی، اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: تونے بہت بری بات کہی ہے، لہٰذا تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اپنی اس قسم کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو، کیونکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تم یہ قسم اٹھا کر کافر ہوگئے ہو، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کارگزاری کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: (( قُلْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ یَّسَارِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا تَعُدْ لَہٗ )) [1] ’’تین مرتبہ ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ‘‘ [اﷲ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں] کہو اور پھر تین مرتبہ شیطان سے اﷲ کی پناہ پکڑو اور تین ہی مرتبہ اپنی بائیں جانب تھوکو اور پھر کبھی یہ قسم نہ اٹھانا۔‘‘ مسلمانو! ایسے برے شرکیہ الفاظ اور بھیانک ممنوع کلمات کے استعمال سے بچو، جو خالق کی مخلوق کے ساتھ برابری کا تقاضا کرتے ہیں، جیسے یہ کہنا: جو اﷲ تعالیٰ چاہے اور تم چاہو، میرے لیے تو بس اﷲ تعالیٰ اور تم ہی ہو، میں نے اﷲ تعالیٰ پر اور تم پر بھروسا کیا ہے اور اس مفہوم کے دیگر کلمات۔ مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: جو اﷲ تعالیٰ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَجَعَلْتَنِيْ لِلّٰہِ نِدًا؟ قُلْ مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ )) [2] ’’کیا تونے مجھے اﷲ تعالیٰ کا شریک بنا دیا ہے؟ بلکہ یوں کہو: جو اﷲ اکیلا چاہے۔‘‘ اﷲ کے بندو! اﷲ تعالیٰ کے اسماے حسنیٰ اور صفاتِ علیا کے توسط سے اس کا قرب حاصل کرو، اپنی حاجات اور اﷲ جل و علا کے سامنے اپنی محتاجی کے اظہار کے ساتھ اس کا قرب چاہو اور اپنے قابلِ تعریف نیک عمل کو اس کے قرب کا وسیلہ بناؤ۔ سب سے بڑا نیک عمل ایسی خالص توحید ہے جو انواع و اقسام کے شرک سے خالی ہو۔ مشروع وسیلوں کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرو اور ایسے بدعی الفاظ اور من گھڑت وسیلوں سے مکمل پرہیز کرو، جو رب الاملاک اور رب الافلاک کے ساتھ [1] سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۷۷۶) [2] مسند أحمد (۱/ ۲۱۴)