کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 82
الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ )) [1] ’’اے لوگو! جھوٹی گواہی کو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے، پھر (اس کی تصدیق میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمانِ باری تعالیٰ کی تلاوت فرمائی ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾ [پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو]‘‘ نیز عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ بات حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔[2] صحیح بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِئًا، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ، قَالَ: فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا: لَیْتَہُ سَکَتَ )) [3] ’’کیا میں تمھیں کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوں؟ تین مرتبہ فرمایا تو صحابہ کرام نے کہا: کیوں نہیں اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا: خبردار! جھوٹی بات (بھی کبیرہ گناہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بار بار دہراتے رہے، حتی کہ ہم نے کہا: کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجائیں۔‘‘ اﷲ کے بندو! جھوٹی گواہی کے نقصانات بہت واضح اور اس کے اثرات بہت برے ہیں۔ جھوٹی گواہی، گواہی کو اپنے اصل مقام سے ہٹا دیتی ہے۔ یہ گواہی حق کی سند بننے کے بجائے باطل کی دلیل بن جاتی ہے اور عدل و انصاف کا ساتھ دینے کے بجائے ظلم کی معاون و مددگار بن جاتی ہے، ایسا کیوں نہ ہو؟ وہ جھوٹی گواہی ہی ہے، جو انصاف کے نشانات کو مٹانے کا سبب ہے، احکام کے فساد کا ذریعہ ہے اور امن و امان کو ختم کرنے کا راستہ ہے، لہٰذا اﷲ کے بندو! اﷲ سے ڈرو اور ان متقین کا راستہ اور مومنوں کا طریقہ اختیار کرو، جن کے متعلق اﷲ جل و علا نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا﴾ [الفرقان: ۷۲] [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۵۹۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۹۹) اس کی سند ضعیف ہے۔ [2] المعجم الکبیر (۹/ ۱۰۹) حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’إسنادہ حسن‘‘ (مجمع الزوائد: ۴/ ۲۰۱) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۵۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۷)