کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 80
اور عمل پر نہیں دی کہ اس نے ارشاد فرمایا: ﴿فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ﴾ [البقرۃ: ۲۸۳] ’’تو بے شک وہ، اس کا دل گناہ گار ہے۔‘‘ لہٰذا اﷲ کے بندو! گواہی کو چھپانا عظیم جرم اور کبیرہ گناہ ہے۔ وصیت کے گواہوں کی طرف سے بیان کرتے ہوئے اﷲ جل و علا فرماتے ہیں: ﴿ وَ لَا نَکْتُمُ شَھَادَۃَ اللّٰہِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ﴾ [المائدۃ: ۱۰۶] ’’اور نہ ہم اﷲ کی شہادت چھپائیں گے، بے شک ہم اس وقت یقینا گناہ گاروں سے ہوں گے۔‘‘ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’شَھَادَۃُ الزُّوْرِ مِنْ أَکْبَرِ الْکَبَائِرِ وَکِتْمَانُھَا کَذٰلِکَ‘‘[1] ’’جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں سے بڑا گناہ ہے اور اس کا چھپانا بھی اتنا ہی گناہ ہے۔‘‘ گواہی کے ضابطے: مسلمانوں کی جماعتو! جب گواہی کے متعلق مذکورہ واضح حقائق ہمارے سامنے ظاہر ہوگئے تو ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے اس بات کا علم ہو کہ شریعت اسلامیہ گواہی کو حدود کے اثبات کے لیے بنیاد اور حقوق کے اظہار کے لیے راستہ قرار دیتی ہے۔ وہ گواہی کے گرد ایک ایسی باڑ لگاتی ہے، جو باڑ اس گواہی کے اہداف مقرر کرتی ہے، ایسے ضابطوں کے موافق اسے نمایاں کرتی ہے، جو اس کے مقاصد کی تحقیق کو متضمن ہیں اور ایسے اصولی دائرے اور بنیادوں میں رہتے ہوئے اسے ان راستوں پر چلاتی ہے، جو اس کے اہداف اور اغراض کے برعکس انحراف کرنے سے روکتی ہیں۔ بنا بریں شریعت اسلامیہ میں قانون یہ ہے کہ گواہی کی بنیاد علم پر ہو اور یہ بااعتماد اور پر اطمینان طریقے سے ادا کی جائے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اِِلَّا مَنْ شَھِدَ بِالْحَقِّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ﴾ [الزخرف: ۸۶] ’’مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔‘‘ [1] المغني لابن قدامۃ (۱۰/ ۱۵۴)