کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 79
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے اور اﷲ کے لیے شہادت دینے والے بن جاؤ، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو۔‘‘ اہلِ علم نے کہا ہے کہ حقوق العباد میں سے کسی معاہدے یا تصرف پر گواہی دینے کے لیے جب کسی ایسے شخص کو بلایا جائے، جس کے سوا کوئی گواہی دینے والا نہیں ہے، تو اس شخص پر گواہی دینا واجب ہے، اور اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو گواہی دینا مندوب اور مستحب ہے، نیز اس وقت وہ گواہی تمام لوگوں کے حق میں فرض کفایہ ہوگی۔ یہ وہ چند ضابطے ہیں، جو اہلِ علم نے گواہی دینے کے لیے مقرر کیے ہیں۔ جہاں تک گواہوں کو تکلیف دینے کا تعلق ہے تو اہلِ علم کا کہنا ہے: گواہی دینا فرض کفایہ ہے، جب لوگوں کی ایک خاطر خواہ تعداد گواہی دے تو پوری جماعت گواہی نہ دینے کے گناہ سے بریٔ الذمہ ہوجاتی ہے، لیکن اگر تمام لوگ گواہی دینے سے رک جائیں تو وہ سب کے سب گناہ گار ہوں گے، اور جب گواہی دینے والے ان افراد کے سوا اور گواہ نہ ہوں، جن کی گواہی سے فیصلہ کیا جا سکے اور اس کی وجہ سے کسی بندے کے حق کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اس وقت انسان پر گواہی دینا عین واجب ہو جاتا ہے۔ اﷲ عزوجل مذکورہ تمام صورتوں کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: ﴿ وَ لَا یَأْبَ الشُّھَدَآئُ اِذَا مَا دُعُوْا﴾ [البقرۃ: ۲۸۲] ’’اور گواہ جب بھی بلائے جائیں انکار نہ کریں۔‘‘ گواہی چھپانا: گواہی کے یہ مذکورہ احکام و مسائل تو حقوق العباد کے متعلق تھے، جہاں تک حدود میں گواہی کا تعلق ہے تو ان میں پردہ پوشی کرنا افضل ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ سے یہ ثابت ہے۔ جب گواہی دینے کی اتنی تاکید اور گواہ کو ایذا دینے کی اتنی وعید ہے، تو گواہی کو چھپانا شرعی طور پر ایک مذموم اور طبعی طور پر مبغوض کام ہے، چنانچہ اﷲ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں: ﴿ وَ لَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یَّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ﴾ [البقرۃ: ۲۸۳] ’’اور شہادت مت چھپاؤ اور جو اسے چھپائے تو بے شک وہ ، اس کا دل گناہ گار ہے۔‘‘ بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ گواہی کو چھپانے پر اﷲ تعالیٰ نے جتنی سخت دھمکی دی ہے، وہ کسی