کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 78
لیے ایسے راستے اور وسائل متعین کرتا ہے جو ہر اس چیز سے اِسے محفوظ رکھنے کی ضمانت فراہم کرتے ہیں جو اس کے اغراض و مقاصد کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سچی گواہی کی اہمیت: عدل و انصاف قائم کرنے کے نمایاں اسباب اور ارکان میں گواہی کو قائم کرنا، معاشرے میں اس کی اہمیت اور کردار کو جاننا، اس کے حق کا خیال رکھنا اور اس کے متعلق ذمے داری کا احساس ہے۔ اﷲ کے بندو! گواہی حق کو باطل سے ممتاز کرنے کا ایک معیار ہے، سچے اور جھوٹے دعوؤں کے درمیان فرق کرنے والی حدِ فاصل ہے، حتی کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ گواہی حقوق کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے، پس اﷲ تعالیٰ نے پاک روحوں کے ساتھ جانوں کو زندہ کیا۔ اجتماعی زندگی اور اس میں رونما ہونے والے حوادث، اس میں پیش آمدہ مادی احوال و واقعات، معاملات اور خاندانی تعلقات کے قیام کے لیے گواہی ایک ضروری چیز ہے۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’فیصلہ کرنا ایک بیماری ہے اور گواہی شفا ہے، لہٰذا شفا کو بیماری پر طاری کر دو۔‘‘ اسلامی بھائیو! گواہی دینے کا حق ادا کرنا، ایک فرضِ لازم اور واجبِ ضروری ہے۔ اﷲ جل و علا فرماتے ہیں: ﴿ وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ﴾ [الطلاق: ۲] ’’اور شہادت اﷲ کے لیے قائم کرو۔‘‘ اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے لوگ من جملہ نیکی اور احسان کرنے والوں میں سے ہیں اور اہلِ فضل و ایمان میں شامل ہیں۔ اﷲ جل و علا (جنتوں میں) عزت دیے جانے والے لوگوں کی تعریف کچھ یوں فرماتے ہیں: ﴿ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰتِھِمْ قَآئِمُوْنَ﴾ [المعارج: ۳۳] ’’اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔‘‘ ایمان کے حقوق اور اس کے واجبات میں یہ شامل ہے کہ حق بات کی گواہی دی جائے، چاہے وہ گواہی اپنے ہی نفس کے خلاف ہو یا کسی قریبی کے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ [النساء: ۱۳۵]