کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 77
چوتھا خطبہ جھوٹی گواہی اور اس کے نقصانات امام و خطيب فضيلة الشيخ حسين آل شيخ حمد و ثنا کے بعد: عدل و انصاف کی اہمیت: اسلامی بھائیو! دنیا میں عدل و انصاف کی داغ بیل ڈالنا اور ظلم کو اپنی تمام تر شکلوں اور صورتوں سمیت روکنا مقاصدِ اسلام میں سے ایک نمایاں مقصد ہے۔ عدل و انصاف کو قائم کرنا رسالت محمدی ہی کی نہیں، تمام رسولوں کی بعثت کی انتہا و معراج ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ [الحدید: ۲۵] ’’بلاشبہہ یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔‘‘ عدل و انصاف تمام شعبہ ہائے زندگی کو منظم کرتا ہے، یہ سب کے حق میں عام ہے اور اپنی مختلف شکلوں کے ساتھ افعال، اقوال اور تصرفات میں داخل و شامل ہے، ہر میدان میں عدل اور ہر انسان کے ساتھ انصاف ہی دین اسلام کا مطمحِ نظر ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی﴾ [النحل: ۹۰] ’’بے شک اﷲ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ یقینا دینِ اسلام ہی حق کے اصول قائم کرتا، اصلاح کے قواعد وضع کرتا، اور خیر و بھلائی کے مناہج اور طریقوں کی بنیاد رکھتا ہے، پس یہی وہ دین ہے جو ان مفید اصولوں اور اصلاحی مناہج کے