کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 76
سے یاد کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ ابو الاسود کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے امیر المومنین! کون سی چیز واجب ہوئی؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے وہی کچھ کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: (( أَیُّمَا مُسْلِمٍ شَھِدَ لَہُ أَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ، فَقُلْنَا: وَثَلَاثَۃٌ؟ قَالَ: وَثَلَاثَۃٌ، فَقُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَاثْنَانِ، ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْہُ عَنِ الْوَاحِدِ )) [1] ’’جس مسلمان کے لیے چار لوگ خیر کی گواہی دیں تو اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، ہم نے عرض کی: اور تین آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تین آدمی، ہم نے عرض کی: دو آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی بھی، پھر ہم نے ایک کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں پوچھا۔‘‘ اس سلسلے میں صاحب فضل اور سچے لوگوں کی گواہی معتبر ہوگی، چنانچہ اس میں دشمنوں کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔ غسل دینے والے کے لیے یہ مستحب ہے کہ جب وہ میت میں کوئی بد زیب اور عیب دار چیز دیکھے تو اس کی پردہ پوشی کرے۔ ایک مسلمان کے جو دوسرے مسلمان بھائی کے ذمے حقوق ہیں، ان میں سے یہ بھی ہیں کہ اس کی نمازِ جنازہ ادا کرے اور اس کے حق میں دعا کرے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَۃَ مُسْلِمٍ إِیْمَانًا وَّاحْتِسَابَا، وَکَانَ مَعَہُ حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْہِ وَیُفْرَغَ مِنْ دَفْنِھَا، فَاِنَّہُ یَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِیْرَاطَیْنِ، کُلُّ قِیْرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلّٰی عَلَیْھَا، ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ، فَاِنَّہُ یَرْجِعُ بِقِیْرَاطٍ )) [2] ’’جو شخص کسی مسلمان کے جنازے پر ایمان و ثواب کی نیت سے جاتا ہے اور نماز پڑھنے اور دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو وہ دو ’’قیراط‘‘ لے کر آتا ہے۔ ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر (اجر و ثواب والا) ہوتا ہے، اور جو شخص نماز پڑھ کر دفن ہونے سے پہلے واپس آجاتا ہے، اس کو ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اﷲ عزوجل کی ملاقات کے سوا کوئی چیز مومن کے لیے باعثِ راحت و اطمینان نہیں ہے۔‘‘[3] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۶۸) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۷) [3] حلیۃ الأولیاء (۱/ ۱۳۶)