کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 71
’’إِنَّ ذِکْرَ الْمَوْتِ إِذَا فَارَقَنِيْ سَاعَۃً فَسَدَ عَلَيَّ قَلْبِيْ‘‘[1] ’’لمحہ گھڑی بھر کے لیے بھی جب موت کی یاد میرے دل سے جدا ہوتی ہے تو میرے دل میں خرابی اور بگاڑ پیدا کر دیتی ہے۔‘‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس نے موت کو کثرت سے یاد کیا، اسے تین چیزوں سے نوازا گیا: (1)جلدی توبہ کرنا۔ (2)دلی قناعت کا حاصل ہونا اور (3) عبادت میں پُھرتی کا میسر آنا، اور جس شخص نے موت کو بھلا دیا، اسے بھی تین ہی چیزیں عطا ہوئیں: (1)توبہ میں ٹال مٹول اور اگر مگر۔ (2)گذارے کے موافق روزی پر عدم رضا۔ (3)عبادت میں سستی اور کاہلی۔‘‘[2] ذکرِ موت کے ثمرات: جس شخص پر خواہشات کے بادل سایہ کناں ہیں اور وہ غفلت کی وادیوں میں سرگرداں اور حیران گھوم رہا ہے، وہ آخر موت کے لیے کب تیاری کرے گا؟ جو شخص حلال یا حرام کے سلسلے میں اﷲ عزوجل کے حکم کی پروا نہیں کر رہا، وہ کب موت کی تیاری کرے گا؟ جس انسان نے قرآن کو چھوڑ دیا، جس نے فجر کی نماز کبھی باجماعت پڑھ کر نہیں دیکھی، جو لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کر گیا، سود کھاتا رہا اور زنا کا مرتکب ہوتا رہا، وہ موت کی تیاری کب کرے گا؟ جس انسان نے غیبت اور چغلی سے اپنی زبان کو ملوث کیا، اس کا دل حسد اور کینے سے بھرا ہوا ہے، اس نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات مسلمانوں کی عیب جوئی اور ان کی عزتیں پامال کرنے میں ضائع کر دیے، کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ موت کی تیاری کر رہا ہے؟ جبکہ انبیاے کرام علیہم السلام کی صورتِ حال یہ رہی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آتا تو انھیں دنیا میں رہنے اور مقام کریم (جنت) کی طرف منتقل ہونے کا اختیار دیا جاتا تھا، مگر اس کے باوجود ہر نبی اور رسول نے آخرت کی دائمی نعمتوں ہی کو اختیار کیا۔ جنت کو ترجیح دیں: ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی نعمتوں ہی کو اختیار کیا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ سیدہ [1] کتاب الزھد للإمام ابن المبارک (۲۶۰) [2] فیض القدیر للمناوي (۲/ ۸۵)