کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 70
جس نے موت کو یاد رکھا، اس پر دنیا اور اس کے مصائب ہلکے ہوگئے، وہ بلند ہمت اور مضبوط عزم کا مالک بن گیا اور ریاکاری و دکھلاوے سے دور ہوگیا اور ہمیشگی کے باغات (جنتوں) کی دائمی نعمتوں کا اپنے آپ کو مستحق بنانے لگا۔ موت کی یاد: یقینا موت کی یاد دہانی اس لیے نہیں کہ انسان پر اس کی زندگی کو اجیرن اور مکدر کر دیا جائے اور وہ موت کی یاد میں اسبابِ زندگی ترک کر کے ہر وقت ڈر اور خوف کو اپنے اوپر طاری کر کے کام اور نتیجہ خیزی سے منقطع ہو کر بیٹھ جائے، بلکہ موت کی یاد دہانی تو اسے ایسے عمل کی طرف راغب کرنے کے لیے ہے، جو اسے معاصی کے ارتکاب سے روک دے اور سخت دل کو نرم کر دے۔ ہم تو موت کو اس لیے یاد کرتے ہیں، تاکہ ہم موت کے بعد پیش آمدہ حالات و معاملات کی اچھی تیاری کریں، نیک اعمال بجا لائیں، اطاعت و فرمانبرداری کے خوگر بن جائیں اور روزہ، قیام، نیکی کا حکم، برائی سے منع کرنا اور محتاجوں کی دست گیری و خبر گیری جیسی عبادت میں خوب کوشش اور محنت کریں۔ امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے کہا: ’’لَوْ قِیْلَ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ إِنَّکَ تَمُوْتُ غَداً مَا قَدَرَ أَنْ یَّزِیْدَ فِيْ الْعَمَلِ شَیْئًا‘‘[1] ’’اگر حماد بن سلمہ کو بتایا جائے کہ تم کل فوت ہو جاؤ گے تو وہ اپنے اعمال میں مزید کسی عمل کے اضافے کی فکر نہیں کریں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے اوقات اﷲ تعالیٰ کی عبادت و بندگی ہی سے معمور تھے، ان کی زندگی کے لمحات عبادتِ الٰہی اور ذکر و اوراد میں مشغول رہ کر بسر ہوتے تھے۔ موت کی یاد تو اس لیے ہے کہ منکرات کو چھوڑ کر ، معاصی سے منہ موڑ کر، مظالم کا دفاع کر کے اور مستحقین کو ان کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ موت کی تیاری کی جائے۔ دلوں سے اختلاف، بغض اور عداوت کو ختم کر کے موت کی تیاری کی جائے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کے ذریعے موت کی تیاری کی جائے۔ امام عبداﷲ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صالح المری کہا کرتے تھے: [1] حلیۃ الأولیاء (۶/ ۲۵۰)