کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 640
گناہوں سے اجتناب اور توبہ و استغفار: گناہوں سے کلی اجتناب کریں، یہ بندے پر نیکیوں کو بوجھل کر دیتے ہیں۔ دعوت الی اللہ میں اللہ کے دین کا اعزاز ہے اور اس میں انبیا و رسل علیہم السلام کے عمل کی پیروی بھی ہے، یہی بہترین قول و کلام ہے۔ گناہوں کی بیماری کی تشخیص کریں اور اس کے لیے کوئی مناسب دوا دیں، لوگوں کے حالات پر نظر رکھیں اور انھیں پہچانیں، ان کی ضروریات پر نظر رکھیں اور حتی المقدور پوری کوشش کریں کہ لوگوں کے غموں میں شریک ہوں، ان پر اپنے غم نہ لاد دیں۔ حاجی حضرات! توبہ و استغفار کثرت سے کریں، اعتبار کمالِ انجام کا ہوگا نہ کہ نقصِ آغاز کا۔ نیکی کے مقبول ہونے کی نشانی یہ ہے کہ بندہ نیکی پر نیکی کرتا چلا جائے۔ امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ قرآن تمھیں تمھاری بیماری اور اس کی دوا بھی بتاتا ہے، تمھاری بیماری گناہ ہیں اور اس کا علاج و دوا توبہ و استغفار ہے جو دخولِ جنت، قوت میں اضافے، بہترین فائدے اور دفعِ بلا کا باعث ہے۔‘‘[1] امام ابو المنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’بندے کی قبر میں توبہ و استغفار سے اچھا پڑوسی دوسرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘[2] سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، و سلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔ [1] جامع العلوم والحکم (ص: ۳۹۷) [2] جامع العلوم والحکم (ص: ۳۹۷)