کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 638
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نو آدمیوں سے بیعت لی اور ایک سے نہیں لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ عَلَیْہِ تَمِیْمَۃً )) ’’ اس نے تعویذ لٹکا رکھا ہے۔‘‘ اس نے ہاتھ ڈالا اور تعویذ توڑ دیا، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لی اور فرمایا: (( مَنْ عَلَّقَ تَمِیْمَۃً فَقَدْ أَشْرَکَ )) [1] ’’جس نے تعویذ لٹکایا تو یقینا اس نے شرک کیا۔‘‘ مشکلات اور پریشانیوں میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ بہترین سننے اور حاجتیں پوری کرنے والا ہے۔ جس کا نفس اللہ تعالیٰ سے متعلق ہوگیا اور اس نے اپنی ضرورتیں صرف اللہ سے بیان کرنا شروع کردیں، اسی سے التجائیں کیں اور اپنے کام کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں دے دی، اللہ اسے اس کے ہر کام میں کافی ہو جائے گا، اس کی ہر مشکل کو آسان کردے گا اور جو غیر اللہ کے آسرے ڈھونڈنے لگا یا اپنے علم و عقل کا سہارا لیا یا اپنی طاقت و قوت پر بھروسا کرلیا، اللہ اسے انھیں چیزوں کے سپرد کرکے ذلیل کر دیتا ہے۔ ’’تیسیر العزیز الحمید‘‘ (شرح کتاب التوحید) میں شارح نے لکھا ہے: ’’یہ بات نصوص اور تجربات سے کھل کر سامنے آ چکی ہے۔‘‘[2] 7۔دین کی عمارت کو مسمار کرنے والی چیزوں میں سے ایک جادو گروں، شعبدہ بازوں، کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانا اور ان سے سوال کرنا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جادوگروں کے سلسلے میں فرمایا ہے: ﴿ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ﴾ [البقرۃ: ۱۰۲] ’’وہ دونوں (فرشتے) جب بھی کسی کو اس (جادو) کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ دیکھ ہم ایک آزمایش ہیں تو کفر میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ حدیث شریف میں ہے: (( مَنْ أَتٰی عَرَّافًا أَوْ کَاھِنًا فَصَدَّقَہٗ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ )) [3] ’’جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس آیا اور اس نے جو کچھ کہا اسے اس نے صحیح مان لیا، تو [1] مسند أحمد (۴/ ۱۵۶) [2] تیسیر العزیز الحمید في شرح کتاب التوحید (۱/ ۲۱۷) [3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۹۰۴) المستدرک للحاکم (۱/ ۴۹)