کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 637
’’کہہ دیجیے میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا؛ سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا حکم مجھے دیا گیا اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ 4۔بیت اللہ شریف کا طواف کرنا تو ایک عبادت ہے جس میں بیت اللہ شریف کے رب کے لیے خشوع و خضوع، عاجزی و ذلت اور انکساری کا اظہار کرنا شامل ہے۔ اس کا باقاعدہ اللہ نے حکم فرمایا ہے، جیساکہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ﴾ [الحج: ۲۹] ’’اور اس قدیم گھر (خانۂ کعبہ) کا طواف کریں۔‘‘ بیت اللہ کے سوا دیگر مزاروں، درباروں (پہاڑوں) اور قبروں کا طواف کرنا، اللہ تعالیٰ کی جنت سے محرومی کا باعث ہے۔ 5۔ضرورت کے وقت اللہ کو صادق جانتے ہوئے اس کی قسم کھانا، اللہ کی تعظیم ہے اور غیر اللہ کی قسم کھانا، باری تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (( مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَرَ ۔أَوْ۔ أَشْرَکَ )) [1] ’’جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر یا شرک کیا۔‘‘ 6۔جس نے نظرِ بد اتارنے یا کوئی فائدہ پانے کے لیے تعویذ گنڈے اپنے پاس رکھے، اس کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بد دعا فرمائی ہے کہ اس کی وہ حاجت پوری نہ ہو بلکہ اس کے برعکس اسے تکلیف پہنچے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( مَنْ تَعَلَّقَ تَمِیْمَۃً فَلَا أَتَمَّ اللّٰہُ لَہٗ )) [2] ’’جو تعویذ گنڈا لٹکائے، اللہ اس کی حاجت پوری نہ کرے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیعت لینے سے انکار فرما دیا تھا، جس نے تعویذ باندھ رکھا تھا۔ چنانچہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک وفد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کے نو آدمیوں سے بیعت لی اور دسویں سے رک گئے۔ انھوں نے عرض کی: اے [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۲۵۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵۳۴) [2] مسند أحمد (۴/ ۱۵۴)