کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 635
مشکل کشا، حاجت روا اور مددگار صرف اللہ ہے: ایمان و عقیدے میں سچا مسلمان ہر موڑ پر اللہ کا مطیع فرماں ہوتا ہے، وہ اپنی حاجتیں صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی بیان کرتا ہے اور اپنی مشکلات کا حل صرف اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کرتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ﴾ [الأنعام: ۱۷] ’’اگر اللہ تمھیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمھیں اس نقصان سے بچا سکے اور اگر وہ تمھیں بھلائی دینا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ صرف ایک اللہ کو پکارنا افضل عبادات میں سے ایک جلیل القدر عبادت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( لَیْسَ شَیْیٌٔ أَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَائِ )) [1] ’’اللہ تعالیٰ کو دعا سے بڑھ کر پیاری چیز اور کوئی نہیں۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ’’دعا افضل عبادت ہے۔‘‘[2] جب آپ مشکلات و حادثات میں مبتلا ہو جائیں اور تمام دروازے اور راستے آپ کے سامنے بند ہو جائیں تو اس عظمت والے رب کو پکارو۔ اسے جس نے پکارا اسے وہ عطا کرتا ہے اور جس نے اس کی پناہ مانگی وہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْیٍٔ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْیٍٔ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی اَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْیٍٔ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْیٍٔ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ )) [3] ’’جب سوال کرو تو صرف اسی سے کرو اور جب مدد طلب کرو تو صرف اسی سے مدد مانگو، [1] مسند أحمد (۲/ ۳۶۲) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۳۷۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۸۲۹) [2] المستدرک (۱/ ۴۹۱) السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۱۵۷۹) [3] مسند أحمد (۱/ ۲۹۳) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۵۱۶)