کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 634
اساس دین ... عقیدہ توحید امام و خطيب: فضيلة الشيخ عبد المحسن القاسم حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مسلمانو! ہم پر اللہ نے یہ احسان فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں وہ دین دیا ہے جو فطرتِ قویم اور عقلِ سلیم کے عین مطابق ہر زمان و مکان کے لیے مناسب اور علم و عمل ، قول و عبادت اور اعتقاد کا جامع ہے، اللہ تعالیٰ اس دین کے سوا تمام مخلوقات سے دوسرا کوئی دین قبول نہیں کرے گا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ [آل عمران: ۸۵] ’’جس نے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اختیار کیا، اس کا وہ طریقہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔‘‘ کلمہ توحید کی فضیلت: اسلام میں ایک کلمہ ایسا ہے کہ جس نے صدقِ دل سے وہ کہہ دیا اور اس کے تقاضوں پر عمل کر لیا اور اس میں صرف رضاے الٰہی کو اپنا مطلوب و مقصود بنایا، وہ بلا حساب اور بلا عذاب جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ کلمہ ہے: ’’لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) یہ سب سے پیارا کلام، سب سے افضل عمل اور ایمان کی سب سے اونچی شاخ ہے۔ جس نے حقیقی طور پر یہ کلمہ کہہ دیا، وہ دین کی اعلیٰ منزل تک ترقی کر گیا۔ اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان رہنے کے لیے صرف یہ کلمہ کہہ دینا ہی کافی نہیں، بلکہ مسلمان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس کلمے کا معنیٰ جانتا ہو، اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو کر شرک کی عملی و قولی نفی کرے اور توحیدِ الٰہی کا عملی ثبوت دے، وہ اس کلمے کے مضمون اور تقاضوں کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھے۔