کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 626
بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی مبارک ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے بیان کرتے ہیں: (( إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّيْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا، وَإِذَا أَتٰنِيْ مَشْیًا أَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً )) [1] ’’جب میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ (بازو) جتنا بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر بڑھ کر آتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔‘‘ شکرانِ نعمت: بیت اللہ کے حج سے شرف یاب ہونے والو! اللہ کے احسانات پر اس کا شکرکرو اور اس کی نعمتوں اور عطاؤں پر اس کی حمد و ثنا بیان کرو۔ اس نے تمھیں بے حساب دیا، لا انتہا عطاؤں سے نوازا اور اپنے فضل و کرم کی انتہا کر دی۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ﴾ [النحل: ۵۳] ’’جو نعمتیں تمھیں حاصل ہیں، یہ سب اللہ ہی کی دین ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [النحل: ۱۸] ’’اور اگرتم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو نہ کر پاؤ گے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔‘‘ حجاجِ کرام! اللہ تعالیٰ سے اچھی چیز کے حصول کا حسنِ ظن رکھو، اس کی خیرات کی امید رکھو، اپنے حج کے قبول ہونے کی اللہ سے قوی امید رکھو اور سابقہ گناہوں کی مغفرت و بخشش کی توقع رکھو۔ ایک حدیثِ قدسی میں ارشادِ الٰہی ہے: (( أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۵۳۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۷۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۴۰۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۷۵)