کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 624
چوتھاخطبہ حج کے بعد ہمارا طرز عمل امام و خطيب: فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، کیوں کہ اس کا تقویٰ سب سے زیادہ نفع آور مال ہے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچو، کیونکہ جس نے احکامِ الٰہیہ میں کوتاہی برتی وہ ناکام و نامراد ہوگیا۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا . یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا﴾[الأحزاب: ۷۰، ۷۱] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کہو، وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال کی اصلاح کردے گا اور تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ عظیم کامیابی پا گیا۔‘‘ شرفِ عبودیت: مسلمانو! بندے کا اپنے رب کی عبادت کرنا، اس کے خشوع و خضوع کی علامت ، اس کے صدق کی دلیل، اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا عنوان، اس کے لیے شرف اور باعثِ عزت و فخر ہے۔ عبودیت و بندگی بلند ترین مقام اور اعلیٰ ترین مقصد و غایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مراتب و مقامات کو چھوڑ کر اسی مقام عبودیت کو اختیار فرمایا تھا، چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بیٹھے تو آسمان کی طرف نگاہ کی، دیکھا کہ ایک فرشتہ نازل ہورہا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ’’جب سے یہ فرشتہ پیدا کیا گیا ہے، یہ کبھی زمین پر نازل نہیں کیا گیا۔‘‘