کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 622
نے ہمیشگی کے گھر جنت میں مومنین اور صالحین کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں گزرا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ اُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا وَ لَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۵] ’’اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے کہ بے شک ان کے لیے ایسے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جب کبھی ان سے کوئی پھل انھیں کھانے کے لیے دیا جائے گا، کہیں گے یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں دیا گیا تھا اور وہ انھیں ایک دوسرے سے ملتا جلتا دیا جائے گا اور ان کے لیے ان میں نہایت پاک صاف بیویاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی . جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی﴾ [طٰہٰ: ۷۵، ۷۶] ’’اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا کہ اس نے اچھے اعمال کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے سب سے بلند درجے ہیں۔ ہمیشگی کے باغات، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے، اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔‘‘ جن اعمال کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے: اﷲ کے بندو! میں تمھیں اور اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ انسان ایک طویل زندگی بسر کرتا ہے، اس حیاتِ فانی کے دوران وہ بہت سے نیک اعمال بجا لاتا ہے، پھر جب وہ فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال درج کیے جانے والے رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اب وہ اپنی ان نیکیوں میں کسی اضافے اور اپنے گناہوں میں کسی کمی کی طاقت نہیں رکھتا، الاّ یہ کہ اس نے کچھ ایسے اعمال سر انجام دیے ہوں، جن کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی باقی رہیں تو ان اثرات کی وجہ سے اس کی نیکیوں میں تجدید و اضافہ ہوتا رہتا ہے، جیسے اس نے علم کی تعلیم