کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 620
سوائے اس کے کہ میں ایک مال دار آدمی تھا تو میں جب لوگوں سے اپنے مال کا مطالبہ کرتا تو جتنا وہ آسانی سے دے پاتے، اتنا لے لیتا اور جتنا ان پر مشکل ہوتا، اسے معاف کر دیتا، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: (اے میرے فرشتو!) میرے بندے سے در گزر کرو۔‘‘ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اسے اس وجہ سے معاف کر دیا کہ وہ تسلسل کے ساتھ اﷲ کے بندوں سے درگزر کرتا تھا۔ عملِ صالح کی پابندی انسان کو اس دن اﷲ عزوجل کے عرش کا سایہ دلانے کا باعث بنے گی، جس دن اس کے سایے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ امام بخاری ۔رحمہ اللّٰه الباري۔ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( سَبْعَۃٌ یُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِيْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہٗ: اَلْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَۃِ رَبِّہٖ، وَرَجُلٌ قَلْبُہٗ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰہِ اِجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْہُ امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَّجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّيْ أَخَافُ اللّٰہَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفیٰ حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہٗ، وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ )) [1] ’’(قیامت کے دن) اﷲ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: (1)ادل امام، (2)وہ نوجوان جو اپنے رب تعالیٰ کی عبادت میں لگا رہا، (3)وہ آدمی جس کا دل مساجد کے ساتھ وابستہ ہے، (4)وہ دو آدمی جو اﷲ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اسی بنا پر ملتے اور اسی پر جدا ہوتے ہیں، (5)وہ آدمی جسے منصب و جمال والی عورت نے گناہ کی دعوت دی، مگر اس شخص نے کہا: بلاشبہہ میں اﷲ سے ڈرتا ہوں، 6وہ آدمی جس نے اتنا مخفی صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی کچھ خبر نہ ہوئی کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے، 7وہ آدمی جسے تنہائی میں اﷲ کی یاد آئی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔‘‘ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۶۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۳۱)