کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 616
’’ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا نبی اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص استطاعت نہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، انھوں نے پھر دریافت کیا: اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کسی شکستہ دل حاجت مند کی مدد کرے۔ انھوں نے پھر سوال کیا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نیکی کرے اور گناہ سے رک جائے، اس کے لیے یہی صدقہ ہے۔‘‘ عملِ صالح کا وسیع دائرہ کار: ہر شخص جو امت کی فلاح اور بہتری کے لیے جو مشن سر انجام دے رہا ہے، وہ عملِ صالح ہی تو کر رہا ہے۔ مصنف اور لکھاری اپنے اصلاح کرنے والے قلم کے ساتھ، طبیب اور ڈاکٹر اپنی نفع مند ادویات کے ساتھ، محقق اپنے میدان میں، کسان اپنی زراعت میں، معلم و مدرس اپنے طلبہ کے سامنے کھڑا ہو کر اور وہ مسئول و ذمہ دار جو اس امانت کو ادا کر رہا ہو، جس کا اسے امین و ذمہ دار بنایا گیا ہے، الغرض یہ سارے ہی لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ عملِ صالح میں مستقل مزاجی: برادرانِ اسلام! مسلسل عملِ صالح بجا لانا اﷲ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ اعمال میں سے ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ارشادِ الٰہی ہے: (( وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَیْیٍٔ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہٗ عَلَیْہِ )) [1] ’’اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کر سکتا جو چیز مجھے اس عمل سے زیادہ پسند ہو جو میں نے اس پر فرض کیا ہے۔‘‘ خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و طریقہ بھی اعمال صالحہ پر مداومت و ہمیشگی کرنا تھا، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَہٗ، وَکَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّیْلِ أَوْ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۰۲)