کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 615
(( أَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ )) [1] ’’(ایمان کا) کم از کم درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے۔‘‘ کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو: انسان پر لازم ہے کہ وہ کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھے، خیر و بھلائی کا کام خواہ چھوٹا ہی ہو، اسے حقیر نہ جانے۔ اﷲ رحیم و کریم تو ذرے کے برابر نیکی پر بھی اجر و ثواب عطا کرتا ہے، چنانچہ اس کا ارشاد ہے: ﴿ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ﴾ [الزلزال: ۷] ’’تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا، اسے دیکھ لے گا۔‘‘ اور حدیث میں آیا ہے: (( لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا وَّلَوْ أَنْ تَلْقٰی أَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ )) [2] ’’نیکی کے کسی کام کو ہرگز حقیر اور چھوٹا نہ سمجھو اگرچہ وہ عمل اپنے (مسلمان) بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔‘‘ عاجز و درماندہ شخص کا عملِ صالح: جب کسی شخص کو تنگ دستی عاجز و درماندہ کر دے، در آنحالیکہ وہ عملِ صالح کا بہت خواہش مند اور مشتاق ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اس کی وسعت اور طاقت کے مطابق خیر کے راستے کھول دے گا اور اسے بھلائی کے میدانوں میں اتار دے گا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَۃٌ، قَالُوْا: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ؟! قَالَ: یَعْمَلُ بِیَدِہٖ فَیَنْفَعُ نَفْسَہٗ وَیَتَصَدَّقُ، قَالُوْا: فَإِنْ لَّمْ یَجِدْ؟! قَالَ: یُعِیْنُ ذَا الْحَاجَۃِ الْمَلْھُوْفِ، قَالُوْا: فَإِنْ لَّمْ یَجِدْ؟! قَالَ: فَلْیَعْمَلْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلْیُمْسِکْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّھَا لَہٗ صَدَقَۃٌ )) [3] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۳۵) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۲۶) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۴۴۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۸۸)