کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 613
﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا . وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: ۲، ۳] ’’اور جو اﷲ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔ اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔‘‘ اور حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: (( اِنْطَلَقَ ثَلَاثَ نَفَرٍ مِّمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، حَتّٰی آوَاھُمُ الْمَبِیْتُ إِلٰی غَارٍ فَدَخَلُوْہُ، فَانْحَدَرَتْ صَخْرَۃٌ مِنَ الْجَبَلِ فَسَدَّتْ عَلَیْھِمُ الْغَارَ، فَلَمْ یُنْقِذْھُمْ إِلَّا تَوَسُّلُھُمْ إِلَی اللّٰہِ بِأَعْمَالِھمُ الصَّالِحَۃُ )) [1] ’’پہلے دور کی بات ہے کہ تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، رات گزارنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوئے، پہاڑ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر لڑھکتا ہوا آیا اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا، تو انھیں اس مصیبت سے اپنے نیک اعمال کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی طرف وسیلہ بنانے نے نجات بخشی۔‘‘ اسلامی بھائیو! خیر و بھلائی کے وہ کام جو تم اپنی آخرت کا ذخیرہ بنا چکے ہو، انھیں تسلسل سے جاری رکھو، عملِ صالح پر ہمیشگی کے ذریعے تم نے جو فضیلت و مقام حاصل کیا ہے، اس کی حرص اور لالچ قائم رکھو اور ان اعمال صالحہ کا پیش خیمہ ان عبادات: نماز، زکات، روزے اور حج کو بناؤ اور یہی عبادات اسلام کے وہ ارکان ہیں، جن میں کاہلی اور سستی کا مظاہرہ کرنا، مطلق طور پر جائز ہے اور نہ ہی انھیں کم اہم اور بے وقعت سمجھنا جائز ہے۔ عملِ صالح کا وسیع دائرہ کار: عملِ صالح مقرر عبادات اور مخصوص میدانوں میں محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع دائرہ کار ہے اور اس کے مفہوم میں بہت زیادہ کام شامل ہیں، چنانچہ جس شخص نے مسجد بنائی یا مدرسے اور سکول کی داغ بیل ڈالی، ہسپتال قائم کیا، یا اس نیت سے کارخانہ اور فیکٹری بنائی، تاکہ امت کی ضروریات پوری ہوں تو یہ تمام کام کر کے اس نے اعمال صالحہ ہی بجا لائے اور اسے ان اعمال پر [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۲۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۴۳)