کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 612
(( وَمَا یَزَالُ عَبْدِيْ یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ، فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِيْ یَسْمَعُ بِہٖ، وَبَصَرَہُ الَّذِيْ یُبْصِرُ بِہٖ، وَیَدَہُ الَّتِيْ یَبْطِشُ بِھَا، وَرِجْلَہُ الَّتِيْ یَمْشِيْ بِھَا، وَإِنْ سَأَلَنِيْ لَأُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لَأُعِیْذَنَّہُ )) [1] ’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہے جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں، جس کے ساتھ وہ چھوتا ہے، اس کی وہ ٹانگ بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے، پھر اگر وہ مجھ سے مانگے تو بلاشبہہ یقینا میں اسے عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو بے شک میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔‘‘ دنیا میں عملِ صالح کی ایک جزا یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے مومنوں کے دلوں میں مودت و محبت پیدا ہوتی ہے، جیسے ارشادِ الٰہی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ [مریم: ۹۶] ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، عنقریب ان کے لیے رحمان محبت پیدا کر دے گا۔‘‘ نیک نامی اور اچھی شہرت بھی عملِ صالح کا ایک بدلہ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَ اٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا﴾ [العنکبوت: ۲۷] ’’اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا۔‘‘ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو آخرت کی سعادت کے ساتھ ملی ہوئی دنیا کی سعادت عطا فرما دی اور اسی دنیاوی سعادت کے نتیجے میں انھیں دنیا میں خوشگوار اور وسیع رزق نصیب ہوا، کشادہ منزل، شیریں چشمہ، ثناے جمیل اور اچھی شہرت عطا ہوئی، چنانچہ ہر شخص ابراہیم علیہ السلام سے محبت کرتا ہے اور ان سے دوستی کرتا ہے۔ عملِ صالح کا ایک بدلہ غموں کا دور ہونا بھی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۰۲)