کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 610
یومِ نحر کی فجر سے تکبیروں کا آغاز کریں گے۔ یہ تو مخصوص تکبیروں کا حکم ہے، جبکہ مطلق تکبیرات پورے عشرۂ ذو الحج میں ہوں گی۔ فکرِ آخرت: اللہ والو! اپنے آنے والے وقت، موت، اس کے سکرات، قبر، اس کے اندھیروں، حشر، اس کی ہولناکیوں، اعمال ناموں، میزان، پل صراط اور اس کے خوفناک منظر کو یاد رکھو اور اپنے ان دوست و احباب اور رشتہ دار و اقارب کو یاد کرو، جنھوں نے کبھی آپ کے ساتھ اس جگہ نمازیں پڑھی تھیں، انھیں موت نے کیسے دبوچ لیا اور آج وہ اپنی قبروں میں اپنے اعمال کے مرہونِ منت ہیں۔ ان میں سے کوئی جنت کے باغات میں ہے اور کوئی نارِ جہنم کے گڑھوں میں پڑا ہے۔ یقین رکھو کہ تمھیں بھی ان راستوں سے گزرنا ہوگا جن سے گزر کر وہ گئے ہیں اور موت کا پیالہ تمھیں بھی پینا ہی ہوگا۔ تمھیں دنیا کی یہ زندگی اور غرور کہیں اللہ سے پھسلا بہکا نہ دے۔ پہلی امتیں کہاں ہیں؟ پہلی قومیں کہاں گئیں؟ وہ کہاں ہیں جو بڑے بڑے ملکوں اور سلطنتوں کے مالک تھے؟ وہ کہاں ہیں جو بڑے کج کلاہ اور تاج والے تھے؟ ان کی وہ فوجیں اور لشکر کہاں گئے؟ وہ کہاں ہیں جنھوں نے بڑے اموال جمع کیے؟ شجرکاری کی، نہریں جاری کیں، شہر تعمیر کیے؟ وہ کہاں ہیں جو بڑے غنی تھے اور وہ کیا ہوئے جو فقیر و غریب تھے؟ ان سب کو موت آگئی اور انھیں شاہی محلات سے تنگ قبروں میں دھکیل لے گئی؟ انھیں اہل و عیال اور دوست احباب کے حلقے سے اٹھا کر لحد کی مٹی میں لے گئی۔ اس دنیا میں دل نہ لگا لینا، اس کے شر کا کوئی بھروسا ہے نہ یہ اپنا عہد پورا کرتی ہے، اس کا چین و سرور سدا کے لیے ہے اور نہ اس کی آفات کی گنتی کرنا ہی ممکن ہے۔ اس دنیا کی مثال تو ایک دستر خوان جیسی ہے جو ہر ایک کو بہت بھلا لگتاہے، پھر وہ محض گھر کا صحن ہی رہ جاتا ہے، نئی چیزیں پرانی اور بوسیدہ ہوجاتی ہیں، جوانی ڈھل جاتی ہے اور حالات بدل جاتے ہیں، لہٰذا اس دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھو اور اچھا عمل کرلو۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، و سلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔