کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 61
سے پہلے مدینے میں زرعی وسائل کی کمی تھی، بارشیں کم ہوتی تھیں، تجارت بہت قلیل تھی، صنعتی پیداوار نہ ہونے کے برابر تھی اور ساکنین بہت تنگ حال تھے، انسانی تخمینوں اور اندازوں کے مطابق تو اس کی طرف ہجرت کو اقتصادی اور اجتماعی مشکلات کا سبب بننا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس مدینے کی طرف ہجرت اسلام اور مسلمانوں کے لیے یوں ہر خیر و بھلائی کو ثابت کرتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر مکر و تدبیر باطل ہو کر رہ گئی۔ ہر بڑے چھوٹے اور مرد و عورت نے سید الخلق حضرت محمد سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، ان سے اپنا دین سیکھا، ان کی اقتدا کی، ان کے اخلاق اپنائے، ان کی مجالس میں شرکت کی، ان کی احادیث کو حفظ کیا، ان کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اور ان کی گھریلو زندگی کی عبادات اور اپنے اہل کے ساتھ معاملات کا غور سے مطالعہ کیا، ان سب چیزوں کی محرِّک اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی محبت تھی۔ اسلام اور مسلمانوں پر ہجرتِ نبویہ کے کس قدر عظیم اثرات مرتب ہوئے اور اس کے ذریعے اﷲ جل و علا نے اپنے مومن بندوں پر کتنی نعمتوں کی بارش کی۔ ہجرت کے ابتدائی دور میں واقعتا بہت سی سختیوں کا سامنا تھا اور لوگ بہت سی تنگ حالیوں میں مبتلا تھے، جیسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’إِنِّيْ لَأَخِرُّ مَا بَیْنَ مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَبَیْتِ عَائِشَۃَ، فَیَأْتِيْ الْأَعْرَابِيُّ وَیَضَعُ رِجْلَہُ عَلٰی عُنُقِيَ، یَظُنُّ أَنِّيْ مَجْنُوْنٌ وَمَا بِيْ إِلَّا الْجُوْعُ‘‘[1] ’’میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان بیہوش ہو کر گر جاتا تھا، کوئی اعرابی آکر میری گردن پر اپنا پاؤں رکھتا اور یہ سمجھتا کہ مجھے جنون کا مرض ہے، جبکہ میں بھوک کی وجہ سے نڈھال ہو کر گر جاتا تھا۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر بھوک کے اثرات دیکھے تو فرمایا: ابو ہریرہ! اہلِ صفہ کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ میں (ابوہریرہ) یہ چاہتا تھا کہ مجھے جتنی بھوک لگی ہے، میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر وہ دودھ نوش کروں، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اصحابِ صفہ کو بلایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حکم سے ان میں سے ایک ایک کو دودھ پلانے لگا، حتی کہ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۸۹۳)