کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 607
مسائلِ قربانی: مسلمانو! ایک بکری ایک آدمی اور اس کے گھر والوں کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہوتی ہے اور اونٹ سات حاجیوں (اور دس غیر حاجی گھروں) کی طرف سے کفایت کر جاتا ہے۔ گائے بھی سات حاجیوں (اور سات غیر حاجی گھروں) کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے۔ بھیڑ کا چھ ماہ سے کم عمر کا جانور قربانی کرنا جائز نہیں اور بکری کا دو دانتا ہونا ضروری ہے۔ دو دانتا وہ ہوتا ہے، جو ایک سال مکمل کر چکا ہو اور اونٹوں میں پانچ سال سے کم عمر والے کی قربانی جائز نہیں۔ گائے دو سال کی ہونا ضروری ہے اور مستحب یہ ہے کہ خوب موٹی تازی تندرست قربانی اختیار کی جائے۔ ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو، ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو اور جو لاغر و کمزور ہو اور جو لنگڑا ہو اور اس کا لنگڑاپن واضح ہو، اسی طرح یہ کہ اس کے کان اور سینگ کا اکثر حصہ ٹوٹا یا کٹا ہوا ہو، تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ بلا سینگ اور خصی جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔ اونٹ کا اگلا بایاں بازو اس کی ران کے ساتھ باندھ کر اسے تین ٹانگوں پر کھڑا کرکے نحر کرنا سنت ہے اور گائے بکری کو پہلو پر لٹا کر ذبح کرنا مسنون ہے ۔ ذبح کے وقت ان سب کا منہ قبلہ کی طرف کرلینا چاہیے اور ذبح و نحر کرتے وقت یہ کہیں: ’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ (اللہ کے نام سے) اور اتنا کہنا واجب ہے، جبکہ ساتھ ہی ’’اَللّٰہُ أَکْبَر‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے) کہنا بھی مستحب ہے، اسی طرح یہ بھی کہے: ’’اَللّٰھُمَّ ھٰذَا مِنْکَ وَ لَکَ‘‘ (اے اللہ یہ تیری توفیق سے اور تیرے ہی لیے ذبح کر رہا ہوں) یہ بھی مستحب ہے کہ قربانی کے گوشت کا ایک حصہ خود کھائیں، ایک حصہ دوست و احباب کو ہدیہ دیں اور تیسرا حصہ غریبوں میں بانٹ دیں۔ گوشت بنانے والے کو اجرت میں گوشت نہیں دینا چاہیے۔ قربانیوں کو ذبح کرنے کا وقت نماز عید کے بعد سے لے کر اگلے دو دنوں تک تو بالاتفاق ہے اور ان سے اگلے دن میں اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ راجح بات یہی ہے کہ وہ بھی قربانی کا دن ہے، اگرچہ پہلے دنوں کی نسبت فضیلت کم ہوجاتی ہے۔ خواتین سے خطاب: مسلمان خواتین! اپنے ان واجبات کو نبھا کر تقویٰ اختیار کرو ، یہ وہ واجبات ہیں جو تمھارے کندھوں پر ڈال دیے گئے ہیں، اپنے بچوں کی اچھی مفید اسلامی تربیت کرو، انھیں ایک کامیاب اور صحیح و سالم مسلمان نسل بنانے کی ذمے داری پوری کرو، عورت بچوں پر باپ سے بھی انتہائی زیادہ اثر انداز