کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 605
سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ [الأنعام: ۱۵۳] ’’اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو سیدھا ہے، اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تمھیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کی اللہ تعالیٰ نے تمھیں تاکید کی ہے، تاکہ تم تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرو۔‘‘ فضائل یومِ نحر و قربانی: مسلمانو! اللہ کی رضا طلب کرکے اور اس کی حرام کردہ اشیا سے دور رہ کر اللہ سے پرہیزگاری کا ثبوت دو اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ تمھارا یہ روزِ عید بہت ہی جلیل القدر اور بہت ہی فضیلت والا دن ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن قرظ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( أَفْضَلُ الْأَیَّامِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمُ النَّحْرِ وَ یَوْمُ الْقَرِّ )) [1] ’’اللہ کے نزدیک سب سے فضیلت والا دن یومِ نحر (۱۰/ ذوالحج) اور اس کے بعد والا دن ہے۔‘‘ یومِ عرفہ اگرچہ بعض وجوہات کی بنا پر افضل دن ہے، لیکن وہ اسی یوم نحر کا مقدمہ و پیش رس ہے۔ یومِ عرفہ میں لوگ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں، وہ دعائیں مانگتے اور گڑگڑاتے ہیں اور خشوع و خضوع کرتے اور تائب ہوتے ہیں، پھر جب وہ صاف ستھرے ہوگئے، پاک ہوگئے اور مزدلفہ کی رات (لیلۃ الجمع) میں بھی گڑ گڑاتے رہے، توبہ و استغفار کرتے رہے، پھر انھوں نے اللہ وحدہ لا شریک کے لیے اپنی قربانیاں ذبح کیں اور یومِ نحر میں انھوں نے اللہ کی مہمانی کے گوشت میں سے گوشت کھایا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی زیارت اور اپنے گھر کے طواف کا اذن بخش دیا۔ یہ حجاج کرام کی نسبت ہے، جبکہ عام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دن ذکر و اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ ہی قربانیاں ذبح کرنے کو مشروع فرمایا ہے، جن کے اجر و ثواب کا اندازہ اس حدیث سے کیا جا سکتا ہے، جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمُ یَوْمَ النَّحْرِ عَمَلاً أَحَبَّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ ھِرَاقَۃِ دَمٍ، وَإِنَّہٗ لَیَأْتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَأَظْلَافِھَا وَأَشْعَارِھَا ، وَإِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ [1] مسند أحمد (۴/ ۳۵۰) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۷۶۵)