کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 604
گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور رشوت دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے [1] اور جھوٹی گواہی کو شرک کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ شراب و منشیات: شراب نوشی اور دیگر منشیات کی تمام اقسام اور تمباکو نوشی سے بھی بچیں، یہ چیزیں دل کو برباد کردیتی ہیں، عقل کو خراب، جسم کو تباہ اور اخلاقِ حسنہ کو مٹا دیتی اور اللہ کی ناراضی کا موجب بنتی ہیں، انھی کے نتیجے میں پورا معاشرہ بگاڑ و انتشار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور تدبیر بے کار ہوجاتی ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ، وَإِنَّ عَلَی اللّٰہِ عَھْدًا لِمَنْ یَّشْرَبُ الْمُسْکِرَ أَنْ یَّسْقِیَہُ مِنْ طِیْنَۃِ الْخَبَالِ )) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! وَمَا طِیْنَۃُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: (( عَرَقُ أَھْلِ النَّارِ )) أَوْ (( عُصَارَۃُ أَھْلِ النَّارِ )) [2] ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اللہ نے اپنے ذمے یہ عہد لے رکھا ہے کہ جس نے دنیا میں شراب پی، اسے جہنم کی ’’طِیَنۃُ الْخَبَالِ‘‘ پلائے گا۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ’’طِیَنۃُ الْخَبَالِ‘‘ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اہلِ جہنم کا پسینہ یا ان سے نکلنے والے فضلے اور نچوڑ ہیں۔‘‘ چغلی اور غیبت: چغلی اور غیبت سے بھی اپنے آپ کو پاک رکھیں، کیونکہ جس کی عزت و آبرو میں طعن و تشنیع کی جائے گی وہ غیبت کرنے والے کی نیکیوں میں سے غیبتوں کے برابر لے لے گا۔ اس سلسلے میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ایک حدیث بھی ہے۔[3] نیز ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ [1] مسند أحمد (۱۱/ ۸۷) سنن أبي داود، برقم (۳۵۸۰) سنن الترمذي، برقم (۱۳۳۷) سنن ابن ماجہ (۲۳۱۳) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۰۰۲) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۵۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۵)